ایک عبرت انگیز واقعہ
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵
وہ بادشاہ ہو کر بھی اعتراف کرنا جانتے تھے معاویہ بن ابی سفیان (۳۸ - ۶۰ھ) نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جمعہ کا خطبہ دیا اور کہا: ایہا الناس ان المال مالنا والفیء فیناس من شئنا اعطینا ومن شئنا منعنا اے لوگو، ساری دولت ہماری دولت ہے اور سارا مال غنیمت ہمارا مال ہے۔ ہم جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں ۔ کسی نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ جب دوسرا جمعہ آیا تو انھوں نے پھر یہی بات دہرائی۔ مگر کوئی نہ بولا۔ پھر جب تیسرا جمعہ آیا تو معاویہ نے پھر یہی بات کہی۔ اب ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا:
کلا، انھا المال مالنا والفیء فیناس، من حال بیننا و بینه، حکمناہ الی الله باسیافنا ہرگز نہیں۔ مال ہمارا ہے۔ مال غنیمت بھی ہمارا ہے۔ جو شخص ہمارے اور اس کے درمیان حائل ہوگا، ہم اپنی تلوار کے ذریعہ اس کا فیصلہ اللہ کے پاس لے جائیں گے۔ یہ سن کر معاویہ منبر سے اتر آئے۔ اس شخص کو بلوایا۔ جب اسے معاویہ کے پاس داخل کیا گیا تو لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص مارا گیا۔ لیکن معاویہ نے دروازے کھول دیئے۔ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ شخص معاویہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ معاویہ نے کہا: اللہ اس شخص کو زندہ رکھے ، اس نے مجھے زندہ کر دیا (ان ھذن احیانی احیاء الله) میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ " میرے بعد کچھ اسرار ایسے آئیں گے جو باتیں کہیں گے مگر ان کا جواب نہیں دیا جائے گا، ایسے لوگ آگ میں بندر وں کی طرح داخل ہوں گے۔ میں نے ایک بات کہی تھی، کسی نے اس کی تردید نہ کی تو مجھے ڈر ہوا کہ میں ان اسرار میں داخل نہ ہو جاؤں۔ میں نے دوبارہ وہی بات کہی۔ پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں انھیں لوگوں میں سے ہوں۔ پھر میں نے تیسرے جمعہ میں وہی بات کہی تو یہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے میری تردید کی۔ اللہ اسے زندہ رکھے۔ اس نے مجھے زندہ کر دیا۔ اب مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے ایسے اسرار کے زمرہ سے نکال دے گا۔ پھر معاویہ نے اس شخص کو انعام دیا۔
الذہبی: تاریخ الاسلام، جلد ۲، صفحہ ۳۲۱ بعض اوقات آدمی کا کام اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ اعتقادی اختلافات اس کو قبول کرنے میں حارج نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر زمخشری (۳۸۰ - ۵۳۸ ھ) معتزلی تھا اور ابن منظور (۱۱۷ - ۶۳۰ ھ)
شیعہ ۔ مگر ان کی یہ حیثیت تفسیر کشاف اور لسان العرب کو عام اہل سنت کے درمیان مقبول بنانے میں حارج نہ ہو سکی کیونکہ انھوں نے ایسی کتابیں تیار کیں جن کے مثل اس موضوع پر دوسری کوئی کتاب نہیں۔