Al-Risala · May 1978 · page 24

ایک عبرت انگیز واقعہ

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴

ایک عبرت انگیز واقعہ

تولیہ خاں (چنگیز خاں کا پوتا) 655ھ میں چنگیز خاں کے تخت حکومت پر بیٹھا۔ یہ حکومت اس وقت چین سے لے کر یورپ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسلامی سلطنت بہت ضعیف حالت میں تھی۔ عیسائی، مجوسی اور یہودی مغلوں کے دربار میں رسوخ حاصل کر کے اسلام اور ممسلمانوں سے ان کو متنفر کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ ابا قا خاں ابن ہلاکو خاں نے خراسان سے تولیہ خاں کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ مجھ کو یہودیوں اور مجوسیوں نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کی کتاب قرآن میں لکھا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو، آپ کا اس تعلیم کے متعلق کیا خیال ہے۔ اگر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ہم کو جہاں پائیں قتل کریں تو ایسی حالت میں مسلمانوں کی قوم کا دنیا میں باقی رہنا ہمارے لئے ایک مستقل اندیشہ کا باعث ہے۔ تولیہ خاں اسلام سے متاثر تھا چنانچہ اپنی حکومت میں اس نے ایک وزیر سلمان بھی رکھا تھا جس کا نام امیر احمد بناکتی تھا۔ ابا قا خاں کی اس عرضداشت کو پڑھ کر تولیہ خاں نے بعض مسلمان علماء کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہارے قرآن میں ایسا حکم موجود ہے۔ انھوں نے کہا " ہاں یہ حکم قرآن میں ہے " تولیہ خاں نے کہا کہ پھر تم ہم کو قتل کیوں نہیں کرتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس وقت ہم قوت نہیں رکھتے۔ جب قوت پائیں گے، تم کو قتل کر دیں گے۔ قولیہ خاں نے کہا کہ اب چونکہ ہم قدرت رکھتے ہیں لہٰذا ہم کو چاہئے کہ ہم تمہیں قتل کریں۔ یہ کہہ کر اس نے ان علماء کو قتل کرا دیا اور حکم جاری کیا کہ مسلمانوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ یہ خبر مولانا بدر الدین بیہقی اور مولانا حمید الدین سمرقندی کو ملی تو وہ قولیہ خاں کے دربار میں گئے اور کہا کہ آپ نے مسلمانوں کے قتل عام کا حکم کیوں جاری کیا۔ قولیہ خاں نے کہا یہ بتاؤ اقتلو المشرکین" کا حکم جو تمہارے قرآن میں ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔ دونوں عالموں نے کہا کہ عرب کے بت پرست جو مسلمانوں کے قتل پر ہر وقت آمادہ تھے۔ ان کی نسبت خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اپنی حفاظت کے لئے ان کو قتل کرو۔ یہ حکم تمہارے لئے نہیں ہے کیونکہ تم تو خدا کی وحدانیت کے قائل ہو اور اپنے فرمان کے اوپر خدا کا نام ہمیشہ لکھتے ہو۔ یہ سن کر قولیہ خاں بہت خوش ہوا اور اسی وقت حکم صادر کیا کہ میرا پہلا حکم جو مسلمانوں کے قتل کی نسبت جاری ہوا اس کو منسوخ سمجھا جائے (۸۰ - ۳۷۹)

سطحی علم اور گہرے علم کا فرق اس واقعہ سے واضح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کے پاس گہرا علم نہ ہو، اس کو چاہئے کہ چپ رہے نہ کہ بے معنی باتیں بول کر غیر ضروری مسائل پیدا کرے۔

پیغمبر عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بعثت اس لئے ہوئی تھی کہ وہ انسان کو نظری اور عملی ہر اعتبار سے ، وہ راستہ بتا دیں جس پر چل کر انسان، خواہ وہ فرد ہو یا جماعت، نصرت الہی کا استحقاق حاصل کرے اور اپنی دنیا و آخرت کو کامیاب بنائے۔ اسی معنی میں کہا گیا ہے : خیْرُالْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page