Al-Risala · June 1978 · page 44

اصلاحی و تجدیدی کوششیں

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴

کے جلو میں بنتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کا فکری ڈھانچہ تمام تر سیکولر بنیادوں پر قائم ہے۔ ایسی حالت میں کسی کے لئے ممکن نہیں وہ اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی جزیوہ بنا سکے، جب تک کہ وہ زمانی افکار کے ڈھانچہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو گا۔ ۴۔ تعمیر و استحکام سے میری مراد رہ فکری حلقہ ہے جس کا کہنا یہ تھا کہ اجنبی اقتدار سے براہ راست سیاسی تصادم نہ کیا جائے، اس کو بطور چھتری استعمال کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرہ دل میں اپنے کام کو جاری رکھا جائے۔ بد قسمتی سے یہی وہ ذہن ہے جو موجودہ دور کے مسلمانوں میں سب سے کم پایا گیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ نے پیرس میں زمانہ قیام (مرسم 1888) سے متعلق اپنے استاد جمال الدین افغانی کا ایک تاثر نقل کیا ہے۔ محمد عبدہ نے ایک گفتگو کے دوران اپنے استاد سے کہا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں سے سیاسی تصادم کا بظاہر کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے لئے کام کا ایک ایسا میدان کھلا ہوا ہے جس میں ہم یقینی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی تبلیغ۔ ہم کیوں نہ ایسا کریں کہ اپنے کو سیاسی نشانہ سے ہٹا دیں اور خاموشی سے تبلیغ و تعلیم کے کام میں لگ جائیں۔ جمال الدین افغانی کی انقلابی طبیعت کو یہ تجویز حقیر معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا: امن انت مثبت (تم پست حوصلگی کی باتیں کرتے ہو)

اس پورے دور میں تعمیر و استحکام کے مقصد کے تحت اٹھنے والی کوئی قابل لحاظ تحریک نظر نہیں آتی۔ مسلم رہنماؤں کا حال یہ رہا کہ وہ "۔ زمانہ با تو نساز تو با زمانہ ستیز" جیسے رومانی تصورات پر فدا ہوتے رہے، کسی کی سمجھ میں وہ حقیقت پسندانہ طریق کار نہ آسکا جس کو بد نام طور پر حالی - ۱۸۳۷) نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: ۔ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی ۔

ہندوستان میں اس سلسلہ میں دو کشتی مثالیں ملتی ہیں، وہ بھی بد نام شخصیتوں کی میری مراد سر سید احمد خاں (۱۸۹۸ - ۱۸۱۷) اور مرزا غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸ - ۱۸۳۰) سے ہے۔ اول الذکر کا کہنا تھا کہ انگریز نے اگرچہ سیاسی کام کا راستہ بند کر رکھا ہے مگر سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں تعمیر و ترقی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں: حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں تعلیم اور اقتصادیات جو نقبیہ چیزوں کی اساس ہے، ان میں ہم کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی امکان کو ایک اور میدان میں تلاش کیا۔ یہ دعوت و تبلیغ کا میدان تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دعوت کی راہ سے ہم نہ صرف ملک کے طبقات میں اپنے لئے کام کے مواقع پاسکتے ہیں بلکہ حکمراں قوم کے اندر بھی ہمارے لئے جدو جہد کا میدان کھلا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کام خود اسلام کا اہم ترین مقصود ہے اور بالا خراس غلبہ تک بھی پہنچانے والا ہے جہاں ہم سیاسی زور آزمائی کے ذریعہ ناکام طور پر پہنچنا چاہتے ہیں۔

یہ دونوں تحریکیں، اپنی ابتدائی شکل میں، نہایت مفید اور دور رس تحریکیں تھیں مگر بد قسمتی سے وہ عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ نہ لے سکیں۔ اس کی وجہ دو طرفہ تھی۔ ایک طرف ہمارے رہنماؤں کا ذہن سامراج دشمن خیالات سے اتنا زیادہ ماؤف ہو چکا تھا کہ کسی اور انداز سے سوچنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تھا۔ ہر وہ شخص انھیں سامراج کا ایجنٹ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page