Al-Risala · July 1978 · page 5

ابعد نا هم عن الحق وطرد نا هم عن الہدیٰ

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۵

3۔ تعلیمات تعلیمات الہی کے بڑے حصے کو بھلا دینا۔ یہاں بھلا دینے سے مراد ترک کر دینا ہے۔ یعنی دین کی بعض شکلیں تو ضرور اب بھی ان کے یہاں موجود رہتی ہیں، مگر اس کے بڑے حصے یا دوسرے لفظوں میں اس کی روح کو وہ چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کتاب گروہ کی یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب دین مقصد زندگی کی حیثیت سے ان کے درمیان باقی نہیں رہتا۔ جب ایمان ایک زندہ شعور کے بجائے ایک روایتی عقیدے کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ اس وقت ان لوگوں کی زندگی کے حقیقی مسائل کچھ اور ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کے ذہن اور ان کے جذبات کسی اور سمت میں کام کرنے لگتے ہیں۔ البتہ دین کا اقرار اور دین کی بعض خارجی شکلیں اب بھی ان کے یہاں موجود رہتی ہیں، مگر وہ محض ایک نسلی اور روایتی چیز کی حیثیت سے ان کے اوپر چکی ہوئی ہوتی ہیں، اسے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ 4۔ خیانت یہ چوتھی چیز ہے جن کو ان لفظوں میں ظاہر فرمایا ہے " اور تم برابر ان کی خیانتوں سے مطلع ہوتے رہتے ہو۔ " خیانت کے معنی ہیں۔ کسی شخص سے جس عمل کی توقع کی جائے اس کے خلاف کام کرنا۔ مثلاً عربی میں کہتے ہیں۔ "خانہ سَیْفُہَ ٗ اس کی تلوار نے خیانت کی) یعنی آدمی نے اپنے دشمن کے مقابلے میں تلوار پر جو بھروسہ کیا تھا، اس میں تلوار پوری نہیں اتری۔ اس سے معلوم ہوا کہ لعنت زدہ گروہ سے اس کا کردار رخصت ہونے لگتا ہے، اس کے قول و فعل میں مطابقت باقی نہیں رہتی۔ وہ وعدہ کرتا ہے مگر اس سے وفا نہیں کرتا۔ دوسروں سے فائدہ اٹھا کر دوسروں کے جو حقوق وہ اپنے اوپر عائد کرتا ہے ان کو پورا کرنے کی اسے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ وہ نہ تو ان حقوق کو تسلیم کرتا جو مالک کی طرف سے بندے کے اوپر عائد ہوتے ہیں اور نہ اس اعتماد میں پورا اترتا جو ایک انسان دوسرے انسان سے کرتا ہے۔ 5۔ باہمی عناد اور بغض۔ یعنی جب انہوں نے خدا کی رسی چھوڑ دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر شخص کا قبلہ الگ الگ ہو گیا۔ وہ باہم جڑے رہنے کے بجائے باہم متفرق ہو گئے۔ دینی معاملات میں ایک دوسرے کی تکفیر و تفسیق اور دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کی لوٹ کھسوٹ ان کا طریقہ بن گیا۔ ان میں سے ہر شخص کے سامنے صرف ذاتی اغراض ہیں۔ اور جب ذاتی اغراض کسی گروہ کا قبلہ بن جائیں تو اختلافات اور کش مکش کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ ذاتی اغراض کی پرستش کے ساتھ اتحاد باقی نہیں رہ سکتا۔ خدا کی رسی سے بندھا رہنا اتحاد و اتفاق پیدا کرتا ہے اور خدا کی رسی کو چھوڑ دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپس میں بغض و عداوت پھوٹ پڑے۔

اس تفصیل کے بعد بتایا گیا کہ جو لوگ ایسے کسی گروہ کی اصلاح کے لیے اٹھیں، ان کا اخلاق کس قسم کا ہونا چاہیے۔ فرمایا "ان کو معاف کر دو اور ان سے درگزر کرو، اللہ یقیناً محسنین کو پسند کرتا ہے" ، یعنی ایسے گروہ کی نفسیات اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ جب انہیں کچھ خدا کے بندے ان کے بھولے ہوئے سبق کی طرف بلاتے ہیں تو ان کی طرف سے جو جواب ملتا ہے وہ نہایت اشتعال انگیز اور داعی کے لئے سخت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ داعی خود بھی اسی قسم کا جواب نہ دینے لگے جو بگڑے ہوئے گروہ کی طرف سے اس کو مل رہا ہے بلکہ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کر کے اپنا کام جاری رکھے۔ آخر میں فرمایا۔ "بہت جلد اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کر رہے ہیں" ، یعنی داعی کو اپنے فرض کی ادائیگی کی فکر ہونی چاہیے، نہ کہ مخاطب کے انجام کی۔ یہ کام اللہ کے ذمہ ہے اور وقت آنے پر وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page