ابعد نا هم عن الحق وطرد نا هم عن الہدیٰ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴
سورہ مائدہ کی آیت ۱۲ میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدی سے پہلے جو لوگ دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے ، ان سے اللہ نے لیا عہد کیا تھا اور کیا ذمہ داریاں ان کے اوپر ڈالی تھیں ۔ وہ یہ تھا کہ ــــــــ وہ اپنی زندگی میں نظم واتحاد قائم کریں گے ۔ وہ نماز کی ادائیگی کریں گے ۔ اپنے مالوں میں زکوٰۃ دیں گے۔ دعوت حق کے ساتھ تعاون کریں گے اور اپنی جان و مال کو اس سے بچا کر نہ رکھیں گے ۔
آیت نمبر ۱۳ میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس عہد پر قائم نہ رہے ۔ انھوں نے اس کو توڑ دیا۔ خدا کے مقرر کئے ہوئے راستہ کو چھوڑ کر خود ساختہ راہوں پر چلنے لگے ۔ اس کے نتیجہ میں خدا کی طرف سے ان کو جو سزا ملی وہ ــــــــ لعنت تھی ۔ وہ خدا کی رحمت سے دور کر دیئے گئے ۔
لعنت کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں :
ابعد نا هم عن الحق وطرد نا هم عن الہدیٰ
یعنی خدا نے ان کو ہدایت کے راستے سے ہٹا دیا اور حق سے دور کر دیا ۔ اس لعنت“ کے بہت سے درجے ہیں ۔ جب بھی خدا پرستی کا کوئی دعوے دار گروہ اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کے اوپر اس عمل کی ابتدا ہو جاتی ہے اور مسلسل بڑھتی رہتی ہے ۔ یہ عمل جب تک درمیانی مرحلوں میں ہوتا ہے واپسی کا امکان باقی رہتا ہے۔ مگر جب لوگ اپنے انحراف میں اس انتہائی درجے تک پہنچ جائیں جس درجے تک یہود پہنچ گئے تو خدا کی طرف سے ان کے اوپر لعنت کی تکمیل کر دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد ان کا حق کی طرف واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔ لعنت کا یہ عمل کن شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ، اس کے پانچ خاص مظاہر قرآن میں بتائے گئے ہیں۔ ۱۔ دل کا سخت ہو جانا ــــــــ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص یا گروہ خدا پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کے تقاضوں کو مسلسل نظر انداز کرتا رہتا ہے تو اس کا ضمیر کُند ہو جاتا ہے ۔ اس کے اندر سے وہ لطیف احساسات ختم ہو جاتے ہیں جو آدمی کو باطل کے خلاف بے چین رکھتے ہیں اور حق کی طرف اسے کھینچتے رہتے ہیں۔ حق پرستی کی قوی ترین دلیلیں اس کو بے وزن معلوم ہوتی ہیں ، خدا اور رسول کے صریح ارشادات سامنے آنے کے باوجود اس کے اندر یہ جذبہ نہیں ابھرتا کہ وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ دے۔
۲۔ کلام الہی میں تحریف ــــــــ یعنی ان کے اندر اتنی ڈھٹائی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے خدا کے کلام کو بدلنا شروع کر دیتے ہیں ۔ کلام الہی کی حیثیت ان کے نزدیک یہ نہیں رہتی کہ وہ انھیں راستہ بتائے بلکہ اس کا کام یہ ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے غلط اعمال کی تصدیق کرے۔ اس مقصد کے لئے وہ اس کی غلط تاویلیں کرتے ہیں ، وہ خدا کے قانون کے ساتھ اس قسم کا عمل کرنے لگتے ہیں جو وکالت خانوں میں انسانی قانون کے ساتھ ہوتا ہے ، وہ خدا کے کلام کو اس کی صحیح جگہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues