جب لوگ اندھے اور بہرے ہو جائیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳
جب لوگ اندھے اور بہرے ہو جائیں
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیوں ہیں جن سے لوگ گزرتے رہتے ہیں ۔ مگر ان پر دھیان نہیں دیتے " ( یوسف: ۱۰۵) جو بات ہم انسانی زبان میں کہنا چاہتے ہیں، وہ کائنات میں زیادہ بہتر طور پر خدائی زبان میں نشر ہو رہی ہے ۔ پھر خدا کی آواز کو سننے کے لئے جب لوگوں کے کان بہرے ہوں تو انسان کی آواز سے وہ کیا اثر قبول کریں گے ۔ کائنات کی وسعتوں اور عظمتوں سے زیادہ کون اس بات کا سبق دے سکتا ہے کہ انسان انتہائی طور پر ایک حقیر وجود ہے ۔ عجز کے سوا کوئی اور رویہ اس کے لئے درست نہیں۔ اس کے باوجود انسان گھمنڈ کرتا ہے ( اسرار - ۳۷)
پہاڑوں کے پتھریلے سینے سے بہہ نکلنے والے پانی کے دھارے سے بڑھ کر کون اس حقیقت کو بیان کر سکتا ہے کہ تم دوسروں کے لئے سیرابی اور تراوٹ کے دریا بن جاؤ ۔ مگر انسان دوسروں کے لئے پتھر سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوتا ہے ( بقرہ - ۔ 74)
زمین کے سینہ پر کھڑے ہوئے تنآور درختوں سے زیادہ بہتر طور پر کون اس حقیقت کا اعلان کر سکتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرو تا کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہ سکے ۔ اس کے باوجود لوگ وقتی جھاڑ جھنکار کی مانند اپنی تعمیرات کھڑی کرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ فلاں نے میرے درخت کو اکھاڑ لیا ( ابراہیم - ۳۶)
اگر لوگوں کے پاس سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ ہو تو کائنات ہر آن حق و صداقت کا اعلان کر رہی ہے۔ اور جب خدائی اعلان کو سننے کے لئے لوگوں کے کان بہرے ہو جائیں ۔ اور خدائی نشانیاں کو دیکھنے کے لئے لوگوں کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہوں تو کوئی انسانی آواز انہیں کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے ۔ اس کے بعد تو لوگوں کو ہوش میں لانے کے لئے قیامت کی چنگھاڑی کا انتظار کرنا چاہئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues