Al-Risala · July 1978 · page 12

آخرت کی دنیا

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲

کسی درخت پر کوئی پتھر اٹکا ہوا ہے، آپ اس کے نیچے سے گزرے، یکایک پتھر آپ کے اوپر گرا اور آپ کا سر ٹوٹ گیا، کیا آپ اس درخت پر خفا ہوں گے اور اس سے لڑائی کریں گے۔ نہیں، بلکہ خاموشی سے اپنا سر پکڑے ہوئے گھر چلے جائیں گے یا اسپتال جاکر اپنا علاج کرائیں گے۔ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے اور آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس کے اوپر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا بھی سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے اور اگر خود اس کا سر توڑ نہیں سکتے تو ملہ کو عدالت میں لے جاتے ہیں اور وہاں اس کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال لیجئے ۔ آم کا ایک بڑا درخت ہے جس پر فصل کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں پھل آتے ہیں۔ یہ پھل پکتے ہیں اور ایک ایک کرکے گر جاتے ہیں یا توڑ لئے جاتے ہیں ، خود آم اپنے ایک پھل کو بھی نہیں کھاتا۔ مگر کوئی شخص کبھی یہ کہتا ہوا نہیں سنا گیا کہ افسوس کہ آم نے اتنے پھل پیدا کئے مگر وہ خود اپنے پھل کو نہ کھا سکا؛ اس کے برعکس ایک آدمی زندگی بھر کی کمائی سے اپنے لئے ایک شاندار مکان بنائے اور مکان کی تعمیر مکمل ہوتے ہی مر جائے تو ہر دیکھنے والا شخص کہے گا کہ کیسا افسوسناک ہے یہ واقعہ کہ آدمی نے محنت کرکے ایک گھر بنایا اور اس کے اندر رہنا اس کو نصیب نہ ہوا۔

معلوم ہوا کہ درخت اور انسان میں بہت بڑا فرق ہے، درخت کوئی "برائی" کرتا ہے تو اس کو اس برائی کی سزا نہیں دی جاتی ۔ اسی طرح درخت کوئی "نیکی" کرتا ہے تو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس کو اس کی نیکی کا انعام دیا جائے، جب کہ انسان کے لئے ہم دونوں چیزیں چاہتے ہیں ۔ ہمارا ذہن پکارتا ہے کہ انسان کوئی بُرا عمل کرے تو اس کو ضرور اس کی سزا دی جائے اور انسان کوئی اچھا عمل کرے تو ضرور اس کو اس کا انعام ملے۔

سارے انسانوں کی فطرت یہی مانگ رہی ہے اور تمام علوم متفقہ طور پر اس کی اہمیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ یہی چیز اس دنیا میں حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ہٹلر نے ایک ایسی جنگ چھیڑی جس میں پانچ کروڑ آدمی ہلاک ہو گئے۔ کیا کوئی بھی حکومت ہٹلر کو اس کے اس جرم کی سزا دے سکتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ سکتے ہیں کہ ہٹلر کو گولی مار کر ختم کر دیں حالانکہ یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ ہٹلر اگر ۵ کروڑ بار زندہ ہواور5کروڑ بارگولی مار کر ہلاک کیا جائے تب بھی اس کی سزا مکمل نہیں ہوگی۔ پھر یہ معاملہ ہٹلر اور اسٹالن جیسے ظالموں کا ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام معمولی آدمی بھی جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے جرم کے اثرات اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ نہ کوئی دنیوی عدالت، اس کے سارے پہلوؤں کی تحقیق کر سکتی اور نہ کوئی جیل خانہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دے سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص جو اس دنیا میں کوئی جرم کرتا ہے' وہ اپنے جرم کی حقیقی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ حالانکہ ساری انسانیت پکار رہی ہے کہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دی جائے۔

یہی معاملہ انعام کا بھی ہے۔ ایک شخص کو اقتدار ملے مگر اقتدار پا کر وہ فرعون نہ بنے بلکہ عام

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page