Al-Risala · July 1978 · page 13

مینیجر

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳

انسانوں کی طرح اپنے کو ایک انسان سمجھے اور اقتدار کو لوگوں کی حقیقی خدمت میں لگائے، کیا اس دنیا میں اس کو اس عمل کا بدلہ دیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص اپنی محنت سے دولت کمائے اور اس دولت کو غریبوں اور محتاجوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں صرف کر دے کیا اس کو اس عمل کا انعام دینا ممکن ہے۔ ایک شخص علم میں کمال پیدا کرتا ہے اور اس علم کو انسانیت کی تعمیر میں لگا دیتا ہے، کیا اس کو اس خدمت کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔ ی نہیں بلکہ ایک شخص کے ایک چھوٹے سے نیک عمل کا انعام دنیا بھی اس دنیا کے محدود حالات میں ممکن نہیں جس طرح ایک بُرا عمل بے شمار طریقوں سے انسان کے لئے مصیبت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل بے شمار طریقوں سے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس کے اعداد و شمار جمع کر سکے اور اس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے۔ اسی کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے۔ اس دنیا میں آدمی بیماری، بڑھاپا، موت اور اس طرح کے دوسرے ناموافق قوانین سے بندھا ہوا ہے۔ بالفرض کسی کے حسن عمل کا اندازہ کر کے اس کے لئے اس کے کارناموں کے مطابق ایک "جنت" بنا دی جائے، جب بھی وہ اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ بے شمار انسانوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالفرض کسی کو مسرت مل جائے، جب بھی وہ چند لمحات سے زیادہ اس کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ ہر انسان اپنے لئے ایک "جنت" چاہتا ہے مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں جنت نہیں بن سکتی۔ جنت بنانے کے لئے کوئی اور دنیا درکار ہے جو موجودہ دنیا کی محدودیتوں اور نقائص سے پاک ہو۔

یہ صورت حال پکا رہی ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے اور اس دنیا کی تکمیل کے لئے ایک اور دنیا وجود میں آنی چاہئے۔

جب ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بے پناہ حد تک وسیع معلوم ہوتی ہے۔ اس کے امکانات لا محدود ہیں۔ یہ زمین، جس پر انسان اپنی زندگی بناتا ہے، وہ عظیم کائنات کے اتھاہ امکانات کا ایک بے حد حقیر حصہ ہے۔ ہماری یہ زمین، کائنات کا اس سے بھی زیادہ چھوٹا حصہ ہے جتنا سارے سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ کائنات نے اپنے اتھاہ امکانات میں سے صرف ایک حقیر جزو ہی کو زمین پر کیوں ظاہر کیا۔ آخرت کا عقیدہ اسی سوال کا جواب ہے۔ انسان کے لئے یہاں جو امکانات ہیں، ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں ہم کو مل رہا ہے اور اس کا آخری اور کامل حصہ آخرت کی دنیا میں دیا جائیگا۔ ضروری اعلان معلوم ہوا کہ کچھ لوگ الرسالہ کی طرف سے اجازت نامہ دکھا کر رقم وصول کر رہے ہیں۔ ہم نے کسی کو اس قسم کا اجازت نامہ نہیں دیا ہے۔ ایسی کوئی تحریر محض فرضی ہے۔

مینیجر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page