Al-Risala · July 1978 · page 14

مینیجر

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴

اللهم لا عيش الا عيش الاخرة (خدا یا! زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے)۔ حدیث کے یہ الفاظ صرف ناکام و نامراد لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ان لوگوں پر بھی پوری طرح صادق آتے ہیں جن کو دنیا میں ہر قسم کے بہترین مواقع ملے۔ جنہوں نے سمجھا کہ وہ اپنی خوشیوں کی بہار اسی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ مگر موت عین اس وقت ان کی تمناؤں کے محل کو ڈھا دیتی ہے جب کہ وہ اس کے دروازے پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ آدمی دنیا کے دوسرے بہتر حصہ کو نہیں دیکھتا اس لئے وہ اپنی زندگی کی معنویت کو سمجھ نہیں پاتا۔ اگر وہ آخرت کو جان لے تو اس کو معلوم ہو کہ ایک مکمل اور ابدی دنیا یہاں موجود ہے۔ وہ اپنی مطلوب دنیا کو بھی پالے اور اپنی تو جہات کے صحیح مرکز کو بھی۔

''ہماری دنیا مکمل کیوں نہیں'' مگر خلاف امید اس کا گوٹڑ بڑھتا گیا۔ گھر والوں کو پریشانی ہوئی۔ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دوڑ شروع آدمی اس سوال کا جواب نہیں پاسکتا ہوگئی۔ بالاخر صرف یہ جاننے کے لئے کہ ان کی نندنی کینسر کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اسپتال جب تک وہ آخرت کی دنیا کو نہ جان لے میں داخلہ کے نویں دن اس کی موت کا پیغام لگا۔ بستر پر ایک بے حس و حرکت جسم پڑا ہوا تھا اور دوست اور ۱۷ سالہ نندنی اپنے وجے نگر کے مکان میں آئینہ کے سامنے کھڑی تھی۔ اسے نظر آیا کہ اس کی نازک رشته دار چاروں طرف اس کو گھیرے ہوئے یہ سوچ گردن پر ایک گوٹڑ ابھر رہا ہے۔ "زندگی زیادہ مکمل اور رہے تھے "وہ ہنستی ہوئی روح آخر کہاں چلی گئی۔ " بے عیب کیوں نہیں"، اس نے اپنے دل میں کہا۔ وہ ایک یہ جولائی 1949 کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد کامیاب رقاصہ تھی اور اپنی دو ہم پیشہ بہنوں (پدما اور نندنی کی بقیہ دو بہنوں نے "نرتیہ نندنی کے نام سے جے شری) کے ساتھ ابھی ابھی کشمیر کے ایک رنگارنگ سفر ایک ڈانس اسکول کھولا۔ زندہ رہنے کے لئے کوئی مشغولیت سے یہ حوصلہ لے کر واپس آئی تھی کہ وہ اپنے پیشہ میں اور ضروری تھی۔ دونوں باصلاحیت بہنوں کی شہرت میں مزید زیادہ توجہ دے کر اعلیٰ ترین رقاصہ بنے گی۔ اپنی بہنوں اضافہ ہوا۔ ان کو موقع ملا کہ وہ یورپ کے شہروں لندن، کے ساتھ اس نے ملک کے مختلف شہروں میں رقص کے جنیوا، فرینکفرٹ، برلن، ایمسٹرڈم، پیرس وغیرہ میں ۵۰ مظاہرے کئے تھے۔ تینوں بہنیں "وجے نگر سسٹرس" اپنے کمال فن کی دادلے سکیں۔ ان کو اپنے پیشہ میں اتنی کے نام سے مشہور ہوگئی تھیں۔ تاہم کل کی تقریب میں کامیابی ہوئی کہ ایک اخبار نے لکھا: شرکت سے اس نے معذوری ظاہر کر دی۔ بد نما گردن کے ساتھ وہ آرٹ کی محفل میں کیسے شریک ہو سکتی تھی۔

The gods of India can smile when the bells on the Vijayanagar sisters tinkle

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page