مغربی دنیا میں اسلام
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵
کتنی مہنگی ہے ترقی کی یہ قیمت ناخوش گوار باتیں کرنا کچھ اچھا نہیں۔ ہم کو اس سے زیادہ مصیبتیں گھیرے ہوئے ہیں کہ ہم اس کے ذکر سے اس میں مزید اضافہ کریں۔ مگر وقت کے کچھ نہایت ذہین مفکرین کا خیال ہے کہ ایک برباد مستقبل کے سوا دنیا کا کوئی انجام نہیں۔
زمین پر مشینی تہذیب کی عمر مشکل چار سو سال ہے۔ اگر واقعات کا سفر بدستور جاری رہے اور کوئی غیر متوقع حادثہ پیش نہ آئے تو ہماری تہذیب ممکن طور پر مزید ایک ملین سال تک زندہ رہے گی۔ مگر ہر قسم کے مصائب، جن میں سے اکثر خود انسان کے پیدا کردہ ہیں، ہر ساعت بڑھتے جارہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے حربی ذخیرے کبھی اتنے خوفناک نہیں تھے جتنے کہ آج ہیں۔ آبادی کا اضافہ، اندھا دھند تحضر (URBANISATION) ہر چیز کو نکلکل بنانے کا لغوشوق، فضا میں مضر گیسوں کا بڑھتا ہوا تناسب ، یہ سب تباہی کی اس فہرست کے صرف چند اجزاء ہیں جو کسی بھی دن کرہ ارض کو فنا کر سکتے ہیں۔ ایک نئی مصیبت جس نے اس صورت حال کو اور بھی زیادہ خراب کیا ہے ، ریڈیائی لہریں ہیں جو خاص طور پر شہری علاقوں پر چھائی جارہی ہیں ۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، راڈر ، سٹلائٹ ، مواصلاتی نظام ، لیزر ، الٹرا وائلٹ لیمپ ۔ ہائی ٹینشن والے بجلی کے تار ، وغیرہ ان چیزوں سے جو برقی اور ریڈیائی لہریں نکلتی ہیں ، ان کے اثرات غیر محسوس ہوتے ہیں مگر ان کا مسلسل اجتماع خاموش طور پر نسیجوں (TISSUES) کو ختم یا برباد کر دیتا ہے۔ ریڈیائی لہروں سے جسمانی نظاموں پر جو برے اثرات پڑتے ہیں ، ان کا ابھی تک اندازہ نہیں کیا گیا ہے۔ کیا یہی چیزیں ہیں جو جدید دنیا میں بعض خاص قسم کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کا سبب ہیں۔ یہ مضحکہ خیز حد تک مہنگی قیمت ہے جو آج کا مشینی انسان نام نہاد ترقی کے لئے ادا کر رہا ہے ۔ ہمارا خاتمہ شاید اس قسم کا شاندار خاتمہ نہیں ہوگا جیسا ستاروں کے ٹکراؤ سے ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا بس ایک خاتمہ ہوگا ، خاموش خاتمہ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues