Al-Risala · July 1978 · page 24

مغربی دنیا میں اسلام

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴

سے پھرتا نہیں بلکہ اس سے اپنی اصلاح کا سبق لیتا ہے۔ وہ آخرت کی بہتری کی خاطر دنیا کی شکایتوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ وہ کسی کے خلاف بے انصافی نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کو کھٹکا ہوتا ہے کہ آج اگر میں بے انصافی کر دپا تو کل خدا مجھ کو بے نقاب کر کے سارے عالم کے سامنے رسوا کر دے گا۔ وہ متکبرانہ روش اختیار نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتا ہے نہ کہ اپنے جیسے انسانوں کا۔ وہ ایسا نہیں کرتا کہ اپنے لئے کچھ چاہے اور دوسروں کے لئے کچھ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس قسم کی دورنگی خدا کو پسند نہیں۔

خدا سے بے خوفی کے ماحول میں ہر آدمی دوسرے کی تخریب کاری میں مصروف رہتا ہے۔ اس کے برعکس خدا سے خوف کی فضا پیدا ہو جائے تو ہر آدمی کو دوسرے سے طاقت ملنے لگتی ہے۔ پورا گروہ اتحاد کی چٹان بن جاتا ہے ۔ وہ نفسیاتی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں جو ایک کو دوسرے سے دور کرنے والی ہیں ۔ معاشرہ میں وسعت ، فیاضی ، بھائی چارہ ، خیر خواہی اور حقیقت پسندی کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ جس گروہ میں یہ اوصاف پیدا ہو جائیں اس کی طاقت اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ دنیا کا کوئی کام اس کے لیے مشکل نہیں رہتا ۔ کوئی اس کو زیر نہیں کر سکتا ۔ کیسی عجیب ہے وہ محرومی جو کامیابی کے چراغ جلا کر حاصل کی جارہی ہو قرآن کی سورہ نمبر 41 کے پانچویں رکوع میں خدا کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو زمین و آسمان میں بکھری ہوئی ہیں رات ، دن ، سورج ، چاند، پانی، سبزہ وغیرہ۔ پھر ارشاد ہوا ہے : ” جو لوگ ہماری نشانیوں میں الحاد کرتے ہیں، وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، کیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں ڈالا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کے ساتھ آئے گا۔ جو جی چاہے کرلو، اللہ تمہاری تمام حرکتوں کو دیکھ رہا ہے ( حم سجدہ ۔ ۴۰ )

الحاد کے معنی ہیں انحراف ۔ بات سے اصل معنی لینے کے بجائے اس کو کسی اور طرف پھیر دینا (قال ابن عباس : الالحاد وضع الکلام علی غیر مواضعه، ابن کثیر) پیغمبر اپنی بات کی صداقت ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کی نشانیاں پیش کرتا تو منکرین کہتے: یہ نشانیاں تو فلاں فلاں دوسرے اسباب کے تحت ظاہر ہورہی ہیں، اس کا تمہارے پیغام کی صداقت سے کیا تعلق ۔ ایک واقعہ جس سے حق کی تصدیق نکل رہی تھی ، اس کو کسی اور طرف پھیر کر اپنے آپ کو حق سے محروم کر لیتے ۔ جب بھی کوئی سچی دعوت اٹھتی ہے ، اللہ اس کی تائید کے لئے اس کے گردو پیش مختلف نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر غافل اور سرکش انسان طرح طرح کی توجیہات کر کے اپنے کو مطمئن کر لیتا ہے۔ جس واقعہ سے ایمان کی غذا لینا چاہئے اس سے وہ الحاد‘‘ کی خوراک حاصل کرتا ہے۔

کیسی عجیب ہے وہ محرومی جو کامیابی کے چراغ جلا کر حاصل کی جارہی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page