Al-Risala · July 1978 · page 27

سائنسی الحاد اور سوشلسٹ الحاد

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷

سائنسی الحاد اور سوشلسٹ الحاد

مذہب اور لاندہ مذہبیت کی کش مکش اگرچہ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی تاریخ پرانی ہے۔ تاہم پچھلی صدی سے پہلے اس نے کبھی علمی الحاد کی صورت اختیار نہیں کی تھی۔ انیسویں صدی کا فکری انقلاب اور بالآخر ایک طرف ڈارون اور دوسری طرف مارکس (۱۸۸۳- کا ظہور انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جب کہ الحاد نے یہ کامیابی حاصل کی کہ وہ علمی منطق اور منظم فلسفہ کے زور پر ایک پوری نسل کے ذہن پر چھا جائے اور مذہب کو دفاع کے مقام پر پناہ لینے کے لئے مجبور کر دے۔

الحاد کی ان دونوں لہروں کو الگ الگ سمجھنے کے لئے ہم ایک کو سائنسی الحاد اور دوسرے کو سوشلسٹ الحاد کہیں گے۔ اولاً سائنسی الحاد کو ابھرنے کا موقع ملا اور اس نے دنیا کے تقریباً تمام حصہ کو کسی نہ کسی طرح متاثر کر ڈالا۔ انیسویں صدی کے آخر تک سائنسی الحاد تعلیم یافتہ دنیا کے ذہنوں پر اس قدر چھا چکا تھا کہ کچھ لوگوں کو یہاں تک کہنے کی جرأت ہوئی کہ ”خدا مر چکا ہے“ اب، کم از کم علمی طور پر، اس کے دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ مگر سائنسی الحاد ” آزاد دنیا“ کا الحاد تھا اور آزادانہ غور و فکر کی فضا میں جس طرح ایک نقطہ نظر کو غلط قرار دینے کے مواقع ہوتے ہیں اسی طرح یہ امکان بھی رہتا ہے کہ دوبارہ نئے دلائل کے ساتھ اس کو صحیح ثابت کیا جاسکے۔ مذہب کے ساتھ یہی ہوا۔ بیسویں صدی کی پہلی چو تھائی گزری تھی کہ خود سائنس کی دنیا میں ایسی تحقیقات سامنے آنا شروع ہوگئیں جنھوں نے ان تمام مفروضات کو بالکل منہدم کر دیا جن کے اوپر علمی الحاد کی بنیاد کھڑی کی گئی تھی۔ جولین ہکسلے (۱۹۷۵-١٨٨٧) کی کتاب انسان تنہا کھڑا ہوتا ہے (Man Stands Alone) کے اگلے ایڈیشن کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ امریکی سائنسداں کریسی مارسین (۱۹۳۷-۱۸۸۸) نے اعلان کیا: انسان تنہا نہیں کھڑا ہو سکتا۔ (Man does not Stand Alone) وائٹ ہیڈ (۱۹۴۷-۱۸۶۱) ایڈنگٹن (۱۹۴۴-۱۸۸۲) اور جمیز جینز (۱۹۴۶-۱۹۷۷) نے علمی الحاد کے خلاف جو کروسیڈ شروع کی تھی وہ اب اس نوبت کو پہنچ چکی ہے کہ ساری مغربی دنیا کی نئی نسل میں وہ جوابی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے جس کو غلط طور پر ’’اینٹی سائنس“ کہا جاتا ہے۔ کائنات کی ملحدانہ تعبیر بے دلیل ثابت ہوگئی۔ عقلی ذرائع سے اخلاقیات کا کوئی معیار تلاش کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ سماجی علوم کسی بہتر انسانی سماج کی تشکیل میں ناکام رہے۔ صنعتی تہذیب انسان کو حقیقی خوشی نہ دے سکی۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ساری آزاد دنیا میں مذہب کی طرف واپسی کا رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ تقریباً ۵۰ سال کے عارضی وقفہ کے بعد دوبارہ وہ مذہبی دور واپس آنا شروع ہو گیا ہے جو اس سے پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا۔

مگر سوشلسٹ الحاد کا معاملہ مکمل طور پر مختلف ہے۔ سائنسی الحاد اگر فکری الحاد ہے تو سوشلسٹ الحاد جبری الحاد۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو دلیل سے ختم کرنا انتہائی دشوار ہے۔

پہلی عالمی جنگ نے سوشلسٹ الحاد کو موقع دیا کہ ۹۱ ایں وہ دنیا کے ایک سر حدی ملک پر اپنا سیاسی اقتدار قائم کرلے۔ اس کے صرف ۳۰ سال بعد دوسری عالمی جنگ کے حالات نے اس کے رقبہ اور طاقت کو بہت زیادہ بڑھا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page