سائنسی الحاد اور سوشلسٹ الحاد
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸
۱۹۷۰ء میں چین کا سرخ انقلاب اب کی تیسری بڑی چھلانگ تھی جس نے اس کو پوری ”قدیم دنیا“ میں سب سے بڑی طاقت کی حیثیت دے دی۔ اپریل ۱۹۷۸ء میں افغانستان میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہونا پوری غیر اشتراکی دنیا خاص طور پر مشرقی دنیا نے لئے سرخ انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کمیونزم اپنی نظریاتی طاقت سے قوموں کو مسخر نہ کر سکا۔ اب وہ سازشوں و ہتھیاروں کے ذریعہ ملکوں کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ قدرتی طور پر سرخ منصوبہ کے اس دوسرے مرحلہ کا رخ پس ماندہ مشرق کی طرف ہے جب کہ پہلے مرحلہ میں اشتراکی مفکرین کو نظر آیا تھا کہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے اوپر سب سے پہلے سرخ انقلاب کا آفتاب طلوع ہوگا۔ مسلم ملکوں (مثلاً ایران، پاکستان) میں باہمی لڑائیوں نے اندرونی طور پر جو سیاسی عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے، اس نے جدید کمیونسٹ منصوبہ کے لئے نہایت موافق حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ امیر بخارا کی نادانیوں کے موجودہ صدی کے آغاز میں بخارا اور سمرقند میں سرخ انقلاب کے لئے راستہ صاف کیا تھا، اس صدی کے اختتام پر اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکیں دوبارہ نہایت اخلاص کے ساتھ ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو صرف غیر اسلامی قوتوں کے لئے راستہ ہموار کرنے والی ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان کی تاریخ مستقبل قریب میں پڑوس کے مسلم ملکوں میں بھی دہرائی جاسکتی ہے۔ ایک مبصر نے لکھا ہے : He has correctly analysed the Afghan coup as a significant advance of Soviet interests in Asia. I would go further and predict that within five to ten years (if the regime is not overthrown by the CIA or SAVAK) the Soviet Union will have militarily strengthened Afghanistan to the point at which it will be strong enough to provide military support to guerrilla groups in Pakistan and Iran. The Times of India, May 31, 1978, P. 6 انھوں نے درست طور پر اندازہ کیا ہے کہ افغانستان کا انقلاب ایشیا میں روس کی دل چسپی کی طرف ایک معنی خیز پیش قدمی ہے۔ میں اس سے آگے بڑھ کر یہ پیش گوئی کروں گا کہ اگر امریکہ یا ایران نے موجودہ افغانی حکومت کا تختہ الٹ نہ دیا تو روس پانچ سے دس سال کے اندر افغانستان کو فوجی اعتبار سے اتنا طاقت ور بنا دے گا کہ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ ایران اور پاکستان کی گوریلا جماعتوں کی فوجی مدد کر سکے۔ “ سوشلسٹ اتحاد کے اندر یہ حیرت انگیز صلاحیت ہے کہ اس کا غلبہ صرف سیاسی غلبہ نہیں ہوتا۔ ایک بار غالب آنے کے بعد وہ انسان کے ذہن کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے۔ اس کی منطق کے مطابق اس کے لئے نہ صرف پیداواری ذرائع کو سرکاری ملکیت میں لینا ضروری ہے بلکہ فکری اداروں کو بھی اپنے قبضہ میں لینے کا اسے پورا حق حاصل ہے۔ اس کی عملداری میں کسی کے لئے ممکن نہیں رہتا کہ سرکاری خطوط کے علاوہ کسی دوسرے ڈھنگ سے سوچ سکے۔ سوشلسٹ الحاد کو اگر جبری الحاد کہا جائے تو اس کے عملی مفہوم کے اعتبار سے بالکل درست ہو گا۔ کوپرنیکس کو جس جبریت فکر کی شکایت تھی وہ سوشلسٹ الحاد کے نظام میں دوبارہ شدید تر شکل میں لوٹ آئی ہے۔ یہاں سرکاری اعلان میں ”زمین کی حرکت “ مکمل طور پر رک جاتی ہے ۔ خواہ اس کے باہر وہ مکمل طور پر گھوم رہی ہو۔ یہ جبری الحاد آج انسانیت کے تقریباً نصف حصہ کو نگل چکا ہے۔ اب وہ بقیہ نصف حصہ کو نگلنے کی طرف
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues