سائنسی الحاد اور سوشلسٹ الحاد
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰
تعمیری اور دعوتی کاموں میں لگادی جائے۔
جہاں تک سائنسی الحاد کا تعلق ہے ، اس کے مقابلہ کے لئے ہم کو صرف یہ کرنا ہے کہ سائنسی دریافتوں کے ان پہلووں کو جانیں جو دینی معتقدات کی تصدیق کرنے والی ہیں اور ان کو دین کے اثبات و حمایت میں استعمال کریں۔ سائنسی الحاد کو رد کرنے کے لئے سب سے بہتر ہتھیار وہی ہے جو خود سائنس نے موجودہ زمانہ میں فراہم کر دیا ہے۔ مگر اشتراکی الحاد کا معاملہ مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہ تاریخ کا واحد نظام ہے جو انسان کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ وہ کلی جبر کی بدترین مثال ہے۔ اس لئے اس کا نظریاتی مقابلہ کرنے کے ساتھ یہ بھی کرنا ہے کہ اس کی عملی گرفت سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر کی جائے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کی باہمی سیاسی لڑائیاں اشتراکی توسیع کے لئے زرخیز زمین فراہم کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کا انقلاب ہے۔ یہاں مسلمانوں کا ایک طبقہ مسلمانوں کے دوسرے طبقہ (شاہی خاندان) کا سیاسی مخالف بن گیا۔ اس باہمی اختلاف نے روس کو موقع دیا کہ وہ ایک طبقہ کی حمایت کے نام پر ملک میں گھس آئے۔ اس نے اس طبقہ کا ساتھ دے کر اس کو کامیاب بنایا اور پھر اس کے ذریعہ سے بالواسطہ طور پر ملک کے اوپر قابض ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ترک سیاست موجودہ زمانہ میں احیائے اسلام کی طرف سفر کا پہلا زینہ ہے۔ روایتوں میں بعد کے دور کے جو واقعات بتائے گئے ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو امام مسلم نے ابو ہریرہ رضہ کے واسطے سے نقل کیا ہے: قال لا تقوم الساعة حتی يغزوها سبعون الفا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں من بنی اسحاق فاذا جاؤا ھا نزلو ا فلم یقاتلو تک کہ بنی اسحق (مسلمانوں) کے ستر ہزار آدمی ایک شہر السلاح ولم یرموا بسھم قالو الا الہ الا اللہ پر حملہ نہ کریں۔ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو کسی ہتھیار سے واللہ اکبر فیسقط احد جا نبيھا۔ ثم یقولون جنگ نہیں کریں گے اور نہ کوئی تیر پھینکیں گے۔ وہ صرف الثانیة لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط جانبھا لا الہ الا اللہ اللہ اکبر کہیں گے اور شہر کا ایک حصہ گر جائے گا۔ الآخر۔ ثم یقولون الثالثة لا الہ الا اللہ واللہ پھر وہ دوسری بار لا الہ الا اللہ اللہ اکبر کہیں گے اور شہر اکبر فیفرّ ج لہم فید خلولھا فیغتمنون کا دوسرا حصہ گر جائے گا۔ پھر وہ تیسری بار لا الہ الا اللہ اللہ اکبر کہیں گے اور وہ ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ دہ (مسلم) اس کے اندر داخل ہو جائیں گے اور مال غنیمت حاصل کرینگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا مصداق کیا ہے۔ اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ تا ہم اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسا بھی کوئی دور آسکتا ہے جب کہ اس کی فکری اور نظریاتی طاقت ہی قوموں کو زیر کرنے کے لئے کافی ہو۔ سیاسی تصادم اور فوجی مقابلہ کی ضرورت باقی نہ رہے۔ موجودہ حالات اگر حقیقی طور پر اس کا مصداق نہ ہوں، تب بھی اعتباری طور پر یقیناً یہ پیشین گوئی اس پر چسپاں ہوتی ہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ نے پچھلے تمام زمانوں سے زیادہ اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انکار کی طاقت سے قوموں کو مسخر کیا جاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues