سائنسی الحاد اور سوشلسٹ الحاد
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹
خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔ قدیم زمانہ میں یاج و ماجوج کے خلاف بند تعمیر کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین یا سائرس (۵۲۹ - ۴۰۰ ق م) سے لیا تھا جس نے بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود کے درمیان پہاڑی دروں کو بند کرکے اس طوفان کو متمدن دنیا کے شمال میں روک دیا۔ موجودہ زمانہ میں سرخ سیلاب پر روک لگانے کا کام اب تک امریکہ انجام دیتا رہا ہے۔ تاہم یہ چھتری اب مشرقی دنیا کے لئے زیادہ قابل اعتماد نہیں رہی ہے۔ کیوبا میں صدر امریکہ مسٹر جان کینیڈی کے صرف ایک الٹی میٹم (۱۹۶۲) نے کمیونسٹ در اندازوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا جب کہ ویت نام میں چھ سالہ جنگ (1965-71) کے بعد بھی وہ کمیونسٹ سیلاب کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی طاقت اٹلانٹک کے مغربی سمت میں جتنی کار آمد ہے، اٹلانٹک کے مشرقی سمت میں نہیں ہے ان حالات میں فرض کے درجہ میں ضروری ہو چکا ہے کہ اس لا حاصل مشغلہ کو ترک کر دیا جائے جس کو ملی سیاست یا اسلامی سیاست کہا جاتا ہے۔ مسلم اکثریت کے ملکوں میں یہ کام نظام اسلام یا نظام مصطفی کے نام پر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریکوں کی صورت میں ہو رہا ہے۔ اور اقلیتی ملکوں میں تحفظ حقوق کے نام پر احتجاج و مطالبات کی صورت میں جاری ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ ان بے معنی ہنگامہ آرائیوں کا کوئی بھی تعلق اسلام یا مسلمانوں کے مفاد سے نہیں۔ اس قسم کے لوگ اجتماعی زندگی میں اسلام کی جڑیں مضبوط کرنے سے پہلے اسلامی انقلاب کا نعرہ لے کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ جب کہ اجتماعی استحکام سے پہلے اجتماعی انقلاب کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہ قرآن کے الفاظ میں، ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا ہے جس کو آدمی نے کیا نہیں نہیں(يحبون ان يححمد د ابا هم ليفعلوا) اس قسم کی نعروں کی سیاست نہ صرف وقت اور قوت کے ضیاع کے ہم معنی ہے، بلکہ وہ تخریبی عناصر کو ابھرنے کا موقع دے کر معاملہ کو پہلے سے زیادہ مشکل اور پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ بلاشبہ یہ مطلوب ہے کہ اجتماعی زندگی کے اوپر اسلام کا غلبہ ہو۔ مگر یہ غلبہ خاموش تعمیری عمل سے ہو گا نہ کہ محض سیاسی شور و غل سے۔ اخوانی رہنما شریف کامل نے کہا کہ مصر میں اخوان المسلمين کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ ہم قبل از وقت سیاست میں داخل ہو گئے (رتد دخلنا في السياسة قبل وقتها)۔ مگر بات صرف اتنی نہیں ہے۔ جب بھی کوئی گروہ فیصلہ کن حیثیت حاصل کرنے سے پہلے عملی سیاست میں داخل ہوگا، وہ اپنی کمی کو دوسروں کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر ایسی تدبیروں کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ اخوان المسلمين نے اپنی کمی کو فوجی افسروں کے ذریعہ پورا کرنا چاہا۔ مگر جب انقلاب آیا تو فوجی افسرانوں کو دھکیل کر خود اقتدار پر قابض ہو گئے۔ پاکستان میں محمد ایوب خاں کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے وہاں کے اسلام پسند، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار بھٹو کے ساتھ مل گئے۔ مگر جب انقلاب آیا تو ملک کے ایک حصہ پر شیخ مجیب الرحمن کا اور دوسرے حصہ پر مسٹر بھٹو کا جھنڈا لہراتا رہا۔ یہی ڈراما اب ایران میں ہو رہا ہے۔ شاہ ایران کو بے دخل کرنے کیلئے شیعہ علما (Black Revolutionary) اور کمیونسٹ گروہ (Red Revolutionary) دونوں ایک ہو گئے ہیں۔ اگر بالفرض یہ اتحاد اپنے مقصد میں کامیاب ہو تو انقلاب آنے کے بعد ایران کی حکومت پر جس کا قبضہ ہوگا وہ کمیونسٹ گروہ ہوگا نہ کہ مذہبی علماء۔ اس طرح موجودہ زمانہ کی اسلامی سیاست نے ہر جگہ صرف غیر اسلامی سیاست کو غالب کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ حالات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ اس قسم کی لا حاصل سرگرمیوں کو مطلق ترک کر دیا جائے اور اپنی ساری طاقت
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues