Al-Risala · July 1978 · page 32

WE CAN'T AFFORD FREEDOM

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲

قرآن کے سلسلے میں اگر ہم ایسا کر سکیں کہ اس کے مذکورہ بالا دعوے کو اس جانچ کا معیار مان لیں تو یہ معیار حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ خدائی الہام ہے۔ پچھلی ۱۳ سو برس کی تاریخ میں قرآن اور اسلام کے بے شمار دشمن پیدا ہوئے۔ وہ اس چیلنج کے جواب میں قرآن جیسی ایک کتاب عربی زبان میں تیار کر کے نہایت آسانی سے اس کو شکست دے سکتے تھے۔ اور یقیناً بہت سے لوگوں نے اس کی کوششیں بھی کیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مسیلمہ (633 - ) اور ابن مقفع (۴۱ - ۷۴۴ء) سے لے کر صلیبی جنگوں (۱۰۹۵- ۱۲۷۱ء) کے بعد پیدا ہونے والے مسیحی مستشرقین تک کوئی بھی اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔

اب تک کے مطالعہ نے ہمیں جہاں پہنچایا ہے، اس میں اگر ایک اور قرینہ کو ملا لیا جائے تو شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ زیر بحث مسئلہ بڑی حد تک قابل فہم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ الہی قانون نے جو قانونی اصول اب سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے متعین کئے تھے، وہ حیرت انگیز طور پر اب بھی صحت کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس درمیان میں وضعی قانون نے اس کو رد کر کے جو متبادل اصول مقرر کئے تھے وہ دو سو سالہ تجربہ میں ناکام ثابت ہو گئے اور اب علم کا دریا دوبارہ اس سمت میں جا رہا ہے جہاں اس نے الہی قانون کو چھوڑا تھا۔ وضعی قانون کے مقابلہ میں الہی قانون کی یہ ابدیت اسی وقت قابل فہم ہو سکتی ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ اس کا سر چشمہ انسانی ذہن کے باہر کسی ابدی ذہن میں پایا جاتا ہے۔

میں یہاں چند مثالیں دوں گا۔

۱۔ الہی قانون میں فرد کی آزادی کو خدائی حکم کے پابند کیا گیا ہے :

یَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ کہتے ہیں کیا امر کچھ ہمارے ہاتھ میں بھی ہے۔ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ (آل عمران - ۱۵۲) کہہ دو امر سب کا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یورپ کی نشأہ ثانیہ کے بعد عالمی ذہن میں جو انقلاب آیا، اس نے اس اصول کو غلامی سے تعبیر کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ آزادی سب سے بڑی انسانی قدر ہے۔ فرانس کے انقلاب (۱۷۸۹ء) سے لے کر اب تک اس اصول کو دو سو برس تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ مگر اس تجربہ کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ اب ایسے محققین پیدا ہو رہے ہیں جو فرد کی آزادی کو بے معنی قرار دے رہے ہیں۔ پروفیسر اسکنر ( - ۱۹۰۴) کا کہنا ہے کہ :

WE CAN'T AFFORD FREEDOM

(B.F. SKINNER) (ہم آزادی کا تحمل نہیں کر سکتے)۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مفکرن کے برعکس اسکنر کا کہنا ہے کہ آزادی کوئی خیر اعلیٰ (SUMMUM BONUM) نہیں۔ انسان کو لا محدود آزادی نہیں بلکہ پابند نظام (DISCIPLINED CULTURE) چلتے۔ انسانی فکری کی یہ واپسی الہی قانون کی ابدیت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ ۲۔ الہی قانون کی رو سے مرد اور عورت کا دائرہ کار الگ الگ ہے اور عملی زندگی میں مرد و عورت پر فوقیت دی گئی ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page