WE CAN'T AFFORD FREEDOM
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳
اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (نساء - ۳۳) مرد قوّام ہیں عورتوں کے اوپر وضعی قوانین نے اس اصول کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ مگر سو برس کے تجربہ نے بتایا کہ الہیٰ قانون ہی اس معاملہ میں حقیقت سے قریب تر ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود آج بھی "مہذب"، دنیا میں مرد ہی جنس برتر (DOMINANT SEX) کی حیثیت رکھتا ہے۔ آزادی نسواں کے علم بردار یہ کہتے تھے کہ عورت اور مرد کا فرق بعض سماجی حالات کی پیداوار ہے۔ مگر موجود زمانہ میں، مختلف متعلقہ شعبوں میں، اس مسئلہ کا جو گہرامطالعہ کیا گیا ہے، اس سے ثابت ہوا ہے کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل (BIOLOGICAL FACTOR) کارفرما ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جیروم کا تحن (۱۹۲۹) کے مطالعہ نے اسے بتایا ہے:
SOME OF THE PSYCHOLOGICAL DIFFERENCES BETWEEN MEN AND WOMEN MAY NOT BE THE PRODUCT OF EXPERIENCE ALONE BUT OF SUBTLE BIOLOGICAL DIFFERENCES. (33)
مرد اور عورتوں میں بعض نفسیاتی فرق محض معاشرتی تجربات کی وجہ سے نہیں ہو سکتے بلکہ وہ لطیف قسم کے حیاتیاتی فرق کی پیداوار ہیں۔
ایک امریکی سرجن (EDGAR BERMAN) کا فیصلہ ہے کہ "عورتیں اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے منصب کے لئے جذباتی ثابت ہوسکتی ہیں" :
BECAUSE OF THEIR HORMONAL CHEMISTRY WOMEN MIGHT BE TOO EMOTIONAL FOR POSITIONS OF POWER. Time Magazine, March 20, 1972, (p.28)
امریکہ میں آزادی نسواں کی تحریک کافی طاقت ور ہے۔ مگر اب اس کے حامی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کی راہ کی اصل رکاوٹ سماج یا قانون نہیں بلکہ خود فطرت ہے۔ فطری طور پر ہی ایسا ہے کہ عورت محض حیاتیاتی محدودیت (LIMITATIONS OF BIOLOGY) کا شکار ہے۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون کا فرق دونوں میں زندگی کے آغاز ہی سے موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ تحریک نسواں کے پرجوش حامی کہنے لگے ہیں کہ فطرت ظالم ہے۔ ہمیں چاہئے کہ پیدائشی سائنس (SCIENCE OF EUGENICS) کے ذریعہ جینیٹک کوڈ کو بدل دیں اور نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا کریں۔ یہ ہے وہ آخری انجام جو امریکی عورت کے نعرہ پالیسی بناؤ کافی نہ بناؤ (MAKE POLICY NOT COFFEE) کا دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں ہوا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک تجرباتی قرینہ ہے کہ وضعی قانون کے مقابلہ میں الہیٰ قانون میں فطرت کی رعایت زیادہ پائی جاتی ہے۔
۳۔ الہی قانون میں سزا کا خاص مقصد نکال (دوسروں کے لئے عبرت) بتایا گیا ہے۔ اسی لئے الہی قانون نے بعض بڑے جرائم کی نہایت سخت سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ ایک کا انجام دیکھ کر دوسرے اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues