Al-Risala · July 1978 · page 43

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳

حوالے کر دے۔

خدا کی معرفت ملنا گویا اس جذبے کے صحیح مرجع کو پالینا ہے اور جو لوگ خدا کو نہیں پاتے ان کے جذبات کسی دوسری مصنوعی چیز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اندر یہ خواہش رکھنے پر مجبور ہے کہ کوئی ہو جس کے آگے وہ اپنے بہترین جذبات کو نذر کر دے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو جب ہندوستان کی سرکاری عمارتوں سے یونین جیک اتار کر ملک کا قومی جھنڈا لہرایا گیا تو یہ منظر دیکھ کر ان قوم پرستوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جو اپنے ملک کو آزاد دیکھنے کے لئے تڑپ رہے تھے۔ یہ آنسو دراصل آزادی کی دیوی کے ساتھ ان کے تعلق کا اظہار تھا۔ یہ اپنے معبود کو پالینے کی خوشی تھی جس کے لئے انہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ صرف کر دیا تھا۔ اسی طرح ایک لیڈر جب "قوم کے باپ" کی قبر پر جا کر پھول چڑھاتا ہے اور اس کے آگے سر جھکا کر کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے جو ایک مذہبی آدمی اپنے معبود کے لئے رکوع اور سجدے کے نام سے کرتا ہے۔ ایک کمیونسٹ جب لینن کے مجسمے کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی ہیٹ اتارتا ہے اور اس کے قدموں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے تو اس وقت وہ اپنے معبود کی خدمت میں اپنے عقیدت کے جذبات نذر کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص مجبور ہے کہ کسی نہ کسی چیز کو اپنا معبود بنائے اور اپنے جذبات کی قربانی اس کے آگے پیش کرے۔ مگر خدا کے سوا جن جن صورتوں میں آدمی اپنا یہ نذرانہ پیش کرتا ہے وہ سب شرک کی صورتیں ہیں۔ اور ان الشرك لظلم عظیم (شرک سب سے بڑا ظلم ہے)، ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ کے بجائے دوسری جگہ رکھ دینا۔ مثلاً ڈبے کے ڈھکن سے آپ بچے کی ٹوپی کا کام لینا چاہیں تو یہ ظلم ہوگا۔ گو یا آدمی جب اپنے نفسیاتی خلا کو پر کرنے کے لئے خدا کو چھوڑ کر کسی اور طرف لپکتا ہے، جب وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنی زندگی کا سہارا بناتا ہے تو وہ اپنے اصل مقام کو چھوڑ دیتا ہے، وہ ایک صحیح جذبے کا غلط استعمال کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page