Al-Risala · July 1978 · page 42

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲

انسان کی حیثیت سے جانتی ہے مگر اس کا الحاد اس کے غلط ماحول کا رد عمل تھا جو بہت بعد کو اس کی زندگی میں ظاہر ہوا اس کی ابتدائی زندگی مذہبی ماحول میں گذری جب وہ بڑا ہوا اور نظر میں گہرائی پیدا ہوئی تو رسمی مذہب سے بے اطمینانی پیدا ہو گئی۔ اپنے اس دور کا حال وہ ایک دوست کے نام اپنے خط میں اس طرح لکھتا ہے:۔

میں ہر روز دعا کرتا ہوں اور تمام دن یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ مجھ پر حقیقت آشکارا ہو جائے جب سے میرے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں یہی دعا کرنا میرا مشغلہ ہے میں تمہارے عقیدے کو قبول نہیں کر سکتا۔ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور میرا دل آنسوؤں سے امڈا چلا آرہا ہے۔ میری آنکھیں رورہی ہیں لیکن مجھے یہ احساس ہو رہا ہے کہ میں راندہ درگاہ نہیں ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میں خدا تک پہنچ جاؤں گا جس کے دیدار کا میں دل و جان سے متمنی ہوں اور مجھے اپنی جان کی قسم ! یہ میری جستجو اور عشق کیا ہے یہ روح القدس کی جھلک ہے۔ اگر انجیل مقدس دس ہزار مرتبہ بھی اس کی تردید کرے تو میں نہیں مان سکتا۔ “ یہ وہی حقیقت کی تلاش کا فطری جذبہ ہے جو نوجوان انگلس میں ابھرا تھا۔ مگر اس کو تسکین نہ مل سکی اور مروجہ مسیحی مذہب سے غیر مطمئن ہو کر وہ معاشی اور سیاسی فلسفوں میں گم ہو گیا۔

اس طلب کی حقیقت یہی ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک خالق اور مالک کا شعور پیدا ئشی طور پر پیوست ہے۔ وہ اس کے لاشعور کا ایک لازمی جزو ہے۔ " خدا میرا خالق ہے اور میں اس کا بندہ ہوں“ یہ ایک خاموش عہد ہے جو ہر شخص اول روز سے اپنے ساتھ لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ ایک پیدا کرنے والے آقا و محسن کا تصور غیر محسوس طور پر اس کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنے اندر عظیم خلا محسوس کرتا ہے۔ اس کی روح اندر سے زور کرتی ہے کہ جس آقا کو اس نے نہیں دیکھا اسے پالے۔ اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب کچھ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page