Al-Risala · July 1978 · page 45

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۵

ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے اور پرستش کو بے معنی چیز سمجھتے ہیں وہ اپنے خود ساختہ بتوں کے آگے جھک کر اپنے اندرونی جذبہ عبودیت کو تسکین دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ الا" انسان کی ایک فطری ضرورت ہے اور یہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقی ہے۔ انسان اگر خدا کے سامنے نہ جھکے تو اس کو دوسرے الہوں کے سامنے جھکنا پڑے گا کیونکہ الٰہ کے بغیر اس کی فطر اپنے خلاء کو پر نہیں کر سکتی۔

مگر بات صرف اتنی نہیں ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتے ہیں وہ ٹھیک اسی طرح حقیقی سکون سے محروم رہتے ہیں جیسے کوئی بے بچہ ماں پلاسٹک کی گڑیا خرید کر بغل میں دبالے اور اس سے تسکین حاصل کرنا چاہے ایک ملحد انسان خواہ وہ کتناہی کامیاب کیوں نہ ہو۔ اس کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے سوا کچھ اور ہے جو میں نے پائی ہے ۔ آزادی سے بارہ سال پہلے 1935ء میں جب پنڈت جواہر لال نہرو نے جیل خانے میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انہوں نے لکھا :

میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا ۔ اس میں کیا ہو گا ، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا۔ P. کتاب زندگی کے اگلے ورق سر مہر ہیں۔ “ Nehru, an Autobiography London (1953)

نہرو کی زندگی کے اگلے اوراق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور دنیا کی آبادی کے چھٹے حصہ پر بلا شرکت حکومت کر رہے ہیں، مگر اس یافت نے نہرو کو مطمئن نہیں کیا اور اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں بھی وہ محسوس کرتے ہیں کہ کتاب زندگی کے مزید کچھ اوراق ہیں جو ابھی تک بند ہیں اور وہی سوال آخر عمر میں بھی ان کے ذہن میں گھومتا رہا جس کو لے کر ہر انسان پہلے روز پیدا ہوتا ہے۔ جنوری1964کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page