Al-Risala · July 1978 · page 46

National Herald, January, 1964

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۶

پہلے ہفتہ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈیلیگیٹ شریک ہوئے۔ پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا: "میں ایک سیاستدان ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لئے ہے، ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر کو بناتی ہیں۔"

National Herald, January, 1964

یہ ایک عدم اطمینان ہے جو ان تمام لوگوں کے رگوں پر گہرے گھر کی طرح چھایا رہتا ہے جنہوں نے خدا کو اپنا الہ اور معبود بنانے سے انکار کیا۔ دنیا کی مصروفیتوں اور وقتی دلچسپیوں میں عارضی طور پر کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اطمینان سے ہم کنار ہیں مگر جہاں یہ مصنوعی ماحول ختم ہوا، حقیقت اندر سے زور کرنا شروع کر دیتی ہے اور انہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سچے اطمینان سے محروم ہیں۔

۷۔ میک گل یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل بریچر Michael Brecher نے پنڈت جواہر لال نہرو کی سیاسی سوانح حیات لکھی ہے۔ اس سلسلے میں مصنف نے پنڈت نہرو سے ملاقات بھی کی تھی۔ نئی دہلی کی ایک ملاقات میں ۱۳، جون ۱۹۵۶ء کو انہوں نے پنڈت نہرو سے سوال کیا :

"آپ مختصر طور پر مجھے بتائیں کہ آپ کے نزدیک اچھے سماج کے لئے کیا چیزیں ضروری ہیں اور آپ کا بنیادی فلسفہ زندگی کیا ہے۔ "

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم نے جواب دیا :

Moral

میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، آپ ان کو اخلاقی معیار Standards کہہ لیجئے۔ یہ معیار ہر فرد اور سماجی گروہ کے لئے ضروری ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page