Al-Risala · July 1978 · page 47

Ticketless Travel is a Social evil.

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۷

اگر وہ باقی نہ رہیں تو تمام مادی ترقی کے باوجود آپ کسی مفید نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے ان معیاروں کو کیسے قائم رکھا جائے ، یہ مجھے نہیں معلوم ۔ ایک تو مذہبی نقطہ نظر ہے لیکن یہ اپنے تمام رسوم اور طریقوں کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے الگ کر کے بہت اہمیت دیتا ہوں ، لیکن میں نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جا سکتا ہے ۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔“ Nehru : A Political Biography (London 1959) 607-8 یہ سوال وجواب جدید انسان کے اس دوسرے خلا کو بتاتا ہے جس میں آج وہ شدت سے گرفتار ہے ۔ افراد کو دیانت و اخلاق کے ایک خاص معیار پر باقی رکھنا ہر سماجی گروہ کی ایک ناگزیر ضرورت ہے ۔ اس کے بغیر تمدن کا نظام صحیح طور پر برقرار نہیں رہ سکتا مگرخدا کو چھوڑ جانے کے بعد انسان کو نہیں معلوم کہ وہ اس ضرورت کو کیسے پورا کرے ۔ سینکڑوں سال کے تجربے کے بعد وہ ابھی بدستور تلاش کی منزل میں ہے ۔ پبلک اور حکام کے درمیان عمدہ تعلقات پیدا کرنے کے لئے خوش اخلاقی کا ہفتہ Courtesy week منایا جاتا ہے مگر اس کے بعد بھی جب سرکاری ملازموں کی افسرانہ ذہنیت ختم نہیں ہوتی تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہوتا کہ ہم ڈکشنری سے " اخلاق " کا لفظ نکال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیں بے ٹکٹ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لئے تمام اسٹیشنوں پر بڑے بڑے پوسٹر لگائے جاتے ہیں ۔ " بے ٹکٹ سفر کرنا سماجی گناہ ہے ۔ "

Ticketless Travel is a Social evil.

مگر جب اس کے باوجود بے ٹکٹ سفر ختم نہیں ہوتا تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ سماجی گناہ " کا حد ار وہ احساس پیدا نہیں کر سکتا جو نظم و ضبط کی تعمیل کے لئے محرک بن سکے ۔ پریس کے ذریعہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ جرم کا انجام اچھا نہیں ہوتا ، مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی رفتار

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page