Al-Risala · August 1978 · page 2

دین کیا ہے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲

دین کیا ہے

دین کے معنی ہیں ذلیل ہونا، فرماں برداری کرنا۔ قومِ دین، فرماں بردار لوگ۔ حدیث میں ہے۔ الکیس من دان نفسہ وعمل لما بعد الموت (عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کرے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے) دین اسلام سے مراد زندگی گزارنے کا وہ طریقہ ہے جس میں آدمی اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکائے ہوئے ہو۔ وہ خدا کا ایسا تابع دار بن جائے کہ اس کے جذبات و احساسات تک خدا کے آگے جھک جائیں، نفسیاتی سطح پر دین جس چیز کا نام ہے، مندرجہ ذیل آیت اس کی مکمل تفسیر پیش کر رہی ہے ۔

وَمَا هَذِهِ الْحَيُوَةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهُو وَلَعِبْ وَإِنَّ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے اور اصل زندگی آخرت الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ فَإِذَا کی زندگی ہے اگر وہ اس کو جانیں۔ پھر جب وہ کشتی رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ میں سوار ہوتے ہیں تو وہ اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص فَلَمَّا نَجَّهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ - ليكفروا بما کر کے اس کو پکارنے لگتے ہیں اور جب وہ ان کو بچا کر آتَيْنَهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ خشکی پر لاتا ہے تو فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے دیئے ہوئے پر فکر کریں اور فائدہ اٹھائیں۔

عنقریب وہ جان لیں گے۔

جب آدمی کی کشتی سمندر میں ہوتی ہے اور موجوں کے درمیان گھر جاتی ہے۔ آدمی اپنے آپ کو بالکل بے یار و مددگار محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وجود مکمل طور پر خدا کے اوپر निर्भर ہے۔ اپنی بے بسی کے سوا اس وقت اس کو کچھ یاد نہیں رہتا ، وہ دل و جان سے خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اپنے پورے وجود کے ساتھ وہ خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ مگر جب وہ سمندر کی لہروں سے بچ کر نکل آتا ہے اور خشکی پر پہنچ جاتا ہے تو تو اس کا حال بالکل دوسرا ہو جاتا ہے۔ اب وہ دنیوی چیزوں میں گم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی عاجزانہ حیثیت کو بھول جاتا ہے۔ اور کبروانانیت کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ خدا اور آخرت کے بجائے دنیا اور دنیا کے مشاغل اس کی دلچسپیوں کا مرکز بن جاتے ہیں ۔ پہلی حالت دین داری کی حقیقت کو بتا رہی ہے اور دوسری حالت بے دینی کی حقیقت کو ۔ گویا دین یہ ہے کہ آدمی کا نفسیاتی وجود پوری طرح خدا کے آگے جھک گیا ہو۔ وہ خدا کو اپنا رب کچھ سمجھنے لگا ہو۔ اس کے مقابلہ میں بے دینی یہ ہے کہ آدمی کے اندر ڈھٹائی ہو۔ آج کی دنیا میں گم ہو کر وہ کل کی دنیا کو بھول جائے ۔ دین کی اس حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لئے یہاں قرآن کے چند حوالے درج کئے جاتے ہیں :

(یوسف نے کہا) میں نے ان لوگوں کا دین چھوڑ دیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا دین اختیار کیا ہے۔ ہمارے لئے روا نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر۔ مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اے قید خانہ کے ساتھیو!

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page