دین کیا ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۳
بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا اللہ اکیلا زبردست ۔ اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ تو بس نام ہیں کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ حکم دینے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ اس نے فرما دیا ہے کہ اس کے سوا تم کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی درست دین ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف) اور اہل کتاب واضح بیان آنے کے بعد متفرق ہوگئے ۔ حالانکہ ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، بالکل یک سو ہوکر ۔ اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ اور یہی ہے درست دین ۔ (بینہ ۵-۵)
تم سیدھا رکھو اپنا منھ دین کی طرف یک سو ہو کر ۔ وہی فطرت اللہ کی جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ۔ بدلنا نہیں اللہ کے بنائے ہوئے کو۔ یہی ہے درست دین۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اللہ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو۔ اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں میں نہ ہو جاؤ جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے ( روم ۳۲-۳۰)
ان آیات کے مطابق دین نام ہے اللہ کو دل سے ماننے کا، ہر قسم کے شرک سے بچنے کا، آخرت کو اپنی منزل مقصود بنانے کا، اللہ کا شکر گزار بن جانے کا، اللہ کو سارے اختیارات کا مالک جاننے کا، صرف اسی کی عبادت کرنے کا۔ نماز روزہ کی ادائیگی کا؛ خدا کی طرف یکسو ہونے کا، فرقہ بندیوں سے بچنے کا، اپنے خود ساختہ دین پر مگن رہنے کے بجائے اللہ اور رسول کے دین کو پکڑنے کا۔ ان کیفیات واعمال کے ساتھ جو زندگی بنے، وہی سچی دینی زندگی ہے اور مختلف معاملات میں ان کیفیات واعمال سے مطابقت رکھنے والا جو رویہ ابھرے وہی دینی رویہ ہے۔ گویا دین یہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر خدا کا ہو جائے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کی عقیدت اور اعتماد کا مرکز نہ رہے۔ ارکان خمسہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دینِ اسلام کے ارکان پانچ ہیں : کلمہ توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔ دین میں داخلہ جہاں سے شروع ہوتا ہے، وہ کلمہ کا اقرار ہے: لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ۔ اس کلمہ میں دو باتیں ہیں۔ اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت۔ یعنی خدائی کی تمام اوصاف کے ساتھ اللہ ہی کو خدا ماننا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا وہ مستند نمائندہ ماننا جس سے حقیقت کی معرفت اور خدا کی مرضیات کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ کلمہ کوئی لفظی منتر نہیں ہے جس کا صرف لسانی تلفظ کر لینا کافی ہو۔ یہ ایک سنجیدہ فیصلے کا اعلان ہے۔ یہ ایک طرف اپنے آقا (خدا) اور دوسری طرف اپنے رہنما (رسول) کو پالینے کا اظہار ہے۔ یہ پوری زندگی کا عہد نامہ ہے جو بندہ اپنے خدا کو گواہ بنا کر کرتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایمان وہی ہے جو داخل القلب ایمان (حجرات) ہو۔ محض زبان سے ان الفاظ کو بول دینا خدا کے یہاں معتبر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں بہت سی ایسی چیزوں کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues