Al-Risala · January 1978 · page 36

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶

اس فرق کی ایک حکمت یہ ہے اصل دین اور بقیہ تفصیلات کی حیثیت کسی مجموعی فہرست کی نہیں ہے۔ بلکہ کل تفصیلات، اصل دین کے لئے لوازم و نتائج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اصل دین اگر بیج ہے تو کلی تفصیلات اس کی شاخیں ہیں۔ اصل دین جب قائم ہو جاتا ہے تو بقیہ تفصیلات بھی، حسب حالات، وجود میں آتی چلی جاتی ہیں۔ اصل دین مطلق طور پر ہمیشہ مطلوب ہوتا ہے۔ جب کہ عملی تفصیلات ان واقعی حالات کی نسبت مطلوب ہوتی ہیں جن میں کوئی شخص اپنے آپ کو پا رہا ہو۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اصل دین کے علاوہ دین کے جو اور تقاضے ہیں، ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ حکم صرف مسئلہ کی نوعیت کو بتا رہا ہے کہ نہ یہ کہ ایک ضروری ہے اور دوسرا غیر ضروری ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصولاً اور اولاً جو چیز بندوں سے مطلوب ہے، وہ صرف وہی "الدین" ہے جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک ہے، خواہ وہ جس حال میں اور جس مقام پر بھی پائے گئے ہوں ۔ اس کے بعد جو دوسرے متعلقات اور تقاضے ہیں، وہ حالات کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں لازماً فرق بھی ہوگا، اور کمی بیشی بھی۔ اس لئے اس قسم کے فروق پر مت لڑو۔ اپنے حالات کے مطابق اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ اصل دین پر مرکوز رکھو۔

"اے نابینا صاحب، سنبھل کر قدم بڑھائیے ۔ آپ جس راستہ پر چل رہے ہیں ، اس میں آپ کے آگے ایک کنواں ہے " یہ فقرہ گرامر کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ اخلاق اور تہذیب کے معیار پر بھی پورا اترتا ہے۔ مگر یہ بظاہر صحیح فقرہ اس وقت بالکل بے معنی ہو گا جب کہ نابینا شخص کنویں کے عین کنارے سے پہنچ گیا ہو اور اندیشہ ہو کہ اس نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو یہ کنویں کے اندر جا گرے گا۔ ایسے نازک موقع پر دوسری تمام باتیں حذف ہو جاتی ہیں اور کہنے والا چلاّ اٹھتا ہے : " کنواں ، کنواں "

ایسا ہی کچھ معاملہ خدائی پیغام رسانی کا ہے۔ بظاہر زندگی کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگر ہر آدمی سب سے پہلے جس مسئلے سے دو چار ہے، وہ موت ہے۔ موت کسی شخص کی زندگی کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جب کہ اس سے عمل کی مہلت چھین لی جاتی ہے اور وہ اچانک ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں دو ہی چیزیں ہیں۔ یا جنت یا جہنم۔

موت کے معاملہ کی نزاکت اس وقت بے حد بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کے لئے آسکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب سے بڑی بات جو لوگوں کو بتانے کے لئے ہونی چاہئے، وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خطرہ سے آگاہ کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page