Al-Risala · January 1978 · page 35

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵

اور معصوم نظریات کی زمین پر اگتی ہے۔ نظریاتی بنیاد کا سہارا لئے بغیر کوئی برائی اس زمین پر بڑھ نہیں سکتی۔ قرآن نے پہلی بار انسانیت کو اس گمراہی سے نکالا۔ اس نے نظریہ اور تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ اور اصل دین کو اس طرح کھول کھول کر بیان کیا کہ کسی بندہ خدا کو حقیقت کے سمجھنے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے:

شرعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصَّى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْ راہ ڈال دی تم کو دین میں وہی جو کہہ دی تھی نوح کو اور اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖ إِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسَى جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور وہ جو کہہ دیا ہم نے ابراہیم وَعِيسَى أَنْ أَقِيْمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو، یہ کہ قائم رکھو دین اور پھوٹ نہ ڈالواس میں۔ (ترجمہ شاہ عبدالقادر)

(شوریٰ - ۱۳)

اس آیت کے سلسلے میں تمام مفسرین متفق ہیں کہ اس میں الدین سے مراد دین کی اصولی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ تفصیل شریعت یہاں مراد نہیں ہے۔ اس تفسیر کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں یہ حکم ہے کہ اس متفق علیہ دین پر قائم ہو جاؤ جو تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ اب چونکہ، قرآن کی تصریح کے مطابق، مختلف انبیاء کی شریعت اور منہاج میں اختلاف تھا (مائدہ ۔۔ ۴۸) اس لئے شریعتوں پر اتفاق کے ساتھ عمل نہیں ہو سکتا۔ صرف اساسات دین کے سلسلے میں یہ ممکن ہے کہ متفقہ طور پر ان کے اوپر عمل کیا جاسکے کیونکہ یہ اساسات دین کی تعلیمات سب کے یہاں ایک تھیں۔ اس حکم کے ذریعہ انبیاء کی دعوت اور انبیاء کی تاریخ کے درمیان نوعی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ مشن خواہ ایک ہو، مگر تاریخیں ہمیشہ جدا جدا بنتی ہیں۔ مختلف انبیاء کے گرد جو الگ الگ تاریخی نظائر نے یا وقتی حالات کے اثر سے ان کی زندگی میں جو اتفاقی اجزاء شامل ہوئے، ان کو قرآن نے ان کے اصل مشن سے الگ کر دیا اور غیر متبدل اور ابدی تعلیمات کو "الدین" قرار دے کر حکم دیا کہ اصل اور مستقل اہمیت اس کو دو اور اس کی تفصیل میں پوری لگ جاؤ۔ ہر نبی اپنے حالات کی رعایت سے کوئی مخصوص طرز عمل اختیار کرتا ہے۔ اس کا یہ عمل ایک وقتی نظیر تو ضرور ہوتا ہے۔ مگر وہ دائمی حجت نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر حضرت سلیمان نے یمن کی مشرک ملکہ کو جنگ کی دھمکی دی۔ حضرت یوسف نے مصر کے مشرک بادشاہ کے ساتھ تعاون کا طریقہ اختیار کیا۔ حضرت مسیح نے فلسطین کے مشرک حکمرانوں سے کوئی تعرض نہیں فرمایا ۔ یہی عملی فرق انفرادی امور میں بھی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ نے مدین کے ایک صالح خاندان میں شادی کی تو آپ کا مہر آٹھ سالہ خدمت قرار پائی۔ حضرت علی کا نکاح پیغمبر کی لڑکی سے مدینہ میں ہوا تو آپ نے مہر میں ایک زرہ ادا کی۔ وغیرہ ۔ اصولی تعلیمات اور عملی تفصیلات میں اس قسم کا فرق لازمی ہے۔ اور اکثر نگاڑا اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کہ اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ کسی عملی نظیر کو وہی اہمیت دے دی جاتی ہے جو کہ ایک اصولی حکم کو دینا چاہئے۔ اساسات دین اور متعلقات دین کا یہ فرق ذہن میں ہو تو یکسی خدا پرستی پیدا ہوتی ہے۔ فرقہ بندی کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ دینی کوششیں اپنے صحیح مقام پر لگنے لگتی ہیں۔ آدمی اس فتنہ سے بچ جاتا ہے کہ دین کے نام پر ایک ایسی چیز کے لئے موکہ آرائی شروع کر دے جو حقیقتہ اُس کے لئے دینی فریضہ کی حیثیت نہ رکھتی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page