ہجرت ، جہاد
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱
بڑھ کتے ہوں ، جس سے وہ سب سے زیاوہ ڈرتا ہو اور جس سے سب زیادہ محبت کرتا ہو ، جس کے ساتھ دہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ شامل (Involve) کر دے کہ وہی اس کا سب کچھ اور وہی اس کی آخری امید بن جائے۔ کسی کو اپنی زندگی میں اس قسم کا برتر مقام دینا ہی اس کو اپنا الٰہ (معبود) بنانا ہے۔ خواہ وہ کوئی دیوتا ہو یا آدمی کا اپنا نفس۔ کوئی جان دار چیز ہو یا بے جان ، کوئی زندہ ہستی ہو یا مردہ ، اور وہ کئی ہوں یا صرف ایک ۔ ساری شریعت کا حاصل یہ ہے کہ آدمی صرف خدا کو اپنا الٰہ بنائے۔ وہ شرک کی تمام قسموں سے بچ کر پورے معنوں میں توحید پرست بن جائے۔ ہر قسم کی عظمت و کبریائی کا مالک صرف ایک اللہ ہے۔ جو آدمی اختیار و اقتدار میں کسی اور کو شریک کرے ، وہ اسی واحد سہارے سے محروم ہو جاتا ہے جس کے سوا اس دنیا میں کوئی اور سہارا نہیں۔ ایسے آدمی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو آسمان سے گر پڑے (حج ۳۱) اور اس کے بعد ساری کائنات میں اس کے لئے بربادی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ خدا کے سوا کسی کو عقیدت و اعتماد کا مرکز بنانا اس کو خدا کا برابر ٹھہرانا ہے۔ ایساعمل اس کائنات میں ”ظلم عظیم “ ہے اور اس کا انجام دائمی عذاب ہے (من مات وهو يدعوا لله نداً دخل النار ، بخاری) حتیٰ کہ یہ بھی شرک ، سب سے بڑا شرک ہے کہ آدمی اپنی ذات کی نمائش چاہتا ہو۔ اس کا احترام کیا جائے تو وہ خوش ہو ، احترام نہ کیا جائے تو وہ بھڑک اٹھے۔ ایسا شخص خود اپنے آپ کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے۔ وہ ایک ایسی برائی میں مبتاَلاَّ ہے جس سے زیادہ بری چیز اس دنیا میں اور کچھ نہیں :
اخوف ما اخاف علیکم الشرك الأصغر نسل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہارے بارے میں عنہ فقال الرياء (احمد، طبرانی، بیہقی) مجھ کو سب سے زیادہ جس چیز کا اندیشہ ہے وہ شرک اصغر ہے۔ پوچھا گیا شرک اصغر کیا ہے۔ فرمایا: ریار آدمی کی عبادت اور اس کی اسلامی سرگرمیاں اگر یہ نتیجہ پیدا کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں لا تَتَّخِذُوا مِن دُونِي وَكِيلًا (اسراء (۲) کا مصداق بن گیا ہو، ذات خداوندی اس کی تمام یادوں اور تو جہات کا مرکز بن جائے، خدا کو الہت نا اس کے لئے سادہ معنوں میں صرف ایک عقیدہ کی چیز نہ ہو بلکہ وہی اس کا نفسیاتی آسرا ہو جس پر وہ جی رہا ہو — آدمی کی دینی زندگی اگر یہ نتیجہ پیدا کر رہی ہو تو بلا شبہ وہ دین پر قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو شدید اندیشہ ہے کہ وہ ابھی تک دین کو نہ پاسکا۔ دین کے نام پر وہ کہیں اور اٹکا ہوا ہے۔
صریح نصوص سے ثابت ہے کہ عمل کا دارو مدار تمام تر نیت پر ہے۔ اللہ کو صرف وہی عمل مطلوب ہے جو خالصۃً اس کی رضا کے لئے کیا گیا ہو۔ جس عمل میں کوئی اور غرض شامل ہو جائے ، اللہ کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ — جو لوگ خدا کے دین کو تجارت بنائیں۔ جو دنیوی فائدوں اور مصلحتوں کے تحت کسی دینی عمل کو اختیار کریں۔ جو کسی دینی عمل کو بطورِ ”کیریر “ کے شروع کریں۔ جو ایسی دینی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں جن کے ذریعہ عزت و شہرت ملتی ہے جن سے آدمی کی ”ریج“ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جن سے عوامی قیادت حاصل ہوتی ہے۔ ایسے لوگ شدید طور پر اس خطرہ میں مبتلا ہیں کہ ان کے اعمال قیامت میں بے وزن قرار دے دیئے جائیں۔ خواہ ان میں یہ دنیوی محرکات شعوری طور پر داخل ہوئے ہوں یا غیر شعوری طور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues