Al-Risala · August 1978 · page 10

ہجرت ، جہاد

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰

وَ اَطِیْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ لو گ نماز کو قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

گویا مسلمان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نماز قائم رکھے، بالفاظِ دیگر اللہ سے لپٹا رہے۔ زکوٰۃ ادا کرے، یعنی بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں مستعد ہو۔ رسول کی اطاعت کرے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنے درمیان منع و طاعت کے نظام کو انتہائی حد تک مضبوط کرے۔ یہی وہ اعمال ہیں جو رحمتِ الہیٰ (عطیہ اقتدار) کا باعث ہوں گے۔ یہی وہ مومن گروہ ہے جس کو اللہ اقتدار سونپنے کے لئے منتخب کرتا ہے کیونکہ وہی اس کے اہل ہوتے ہیں کہ اقتدارِ ارضی کو منصوبہ الہیٰ کے مطابق چلائیں۔ ان کے لئے اقتدار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کو بے خوف و خطر خدا کی عبادت کرنے کے مواقع مل گئے۔ وہ اللہ کے سوا کسی اور شے کو اپنا مرکز توجہ نہیں بناتے۔ وہ کبر اور ظلم سے اپنے آپ کو پاک رکھتے ہیں اور اقتدار کے ملے ہوئے مواقع کو تمکین دین کے لئے استعمال کرتے ہیں نہ کہ تمکین خویش کے لئے۔

خلاصہ

ایک تاجر کو آپ دیکھیں تو مختلف اوقات میں وہ مختلف سرگرمیاں کرتا ہوا دکھائی دے گا۔ کہیں خاموش کہیں بولتا ہوا، کہیں بیٹھا ہوا کہیں سفر کرتا ہوا، کہیں خرچ کرتا ہوا کہیں مقدمہ لڑتا ہوا۔ تاہم اس کی بظاہر مختلف سرگرمیوں کا حاصل صرف ایک ہے: دولت دنیا کو پانا۔ اسی طرح ایک مومن مختلف وقتوں میں بظاہر مختلف عبادات و اعمال میں مصروف نظر آتا ہے۔ مگر ان سب کا مقصد ایک ہوتا ہے : دولتِ آخرت کو پانا۔

دولت آخرت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی پورے معنوں میں موحد بن جائے اور ہر قسم کے شرک سے بچتا ہوا اپنے رب سے جا ملے:

عن جابر رض ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص خدا سے اس طرح ملاکہ وہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ قال : من لقي الله لا يشرك به شيئًا دخل الجنة شریک نہیں کر رہا تھا وہ جنت میں داخل ہوا۔ جو اس و من لقيه يشرك به شيئًا دخل النار (مسلم) طرح ملاکہ وہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو شریک کر رہا تھا وہ آگ میں داخل ہوا۔

توحید اور شرک کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ جو شخص خدا کے سامنے عبادتی رسوم ادا کرے وہ موحد ہے ۔ اور جو شخص کسی بت کے سامنے عبادتی رسوم ادا کرتا ہو وہ مشرک ہے۔ یہ تو دونوں کی ظاہری علامتوں میں سے صرف ایک علامت ہے۔ توحید اور شرک در اصل طالب اور مطلوب (رج (۳) بننے کا معاملہ ہے۔ یہ آدمی کی پوری ہستی کا نذرانہ ہے۔ کسی شخص کا معبود وہی ہے جو اس کا حقیقی مطلوب و مقصود ہو، جس کی طرف وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ جھکا ہوا ہو۔ جس چیز کو آدمی عظمت کا مقام دے، جس پر وہ بھروسہ کرتا ہو، جس کے لئے اس کے احترام و تقدس کے جذبات وقف ہوں، جس کی یاد میں وہ غرق رہتا ہو، جس کے تصور سے اس کے نازک احساسات

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page