Al-Risala · August 1978 · page 13

دینی روح کیوں نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳

کو خوبصورت الفاظ میں بیان کر کے اس کو اپنے لئے تزین کر لیتے ہیں (انعام - ۷۳) اس تزئین کی سب سے زیادہ معروف صورت وہ ہے جس کو قرآن میں یُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (مائدہ - ۱۳) فرمایا گیا ہے۔ تحریف کے معنی ہیں پھیر نا۔ کلام کو اس کے محل سے پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ کلام کا وہ مطلب وعمنی بیان کیا جائے جو متکلم کی مراد نہ ہو۔ گویا یہود کی تزئین یہ تھی کہ وہ اپنی قساوت، بالفاظ دیگر اپنی بے روح دین داری ، کو لفظی تاویلات سے ایسا خوش نما بنا لیتے تھے کہ وہی اصل دین نظر آنے لگے۔

تحریف کی صورت عام طور پر وہی ہوتی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں غلط تعبیر (MISINTERPRETATION) کہا جاتا ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ یہود کو یہ خبر دی گئی تھی کہ تم کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دی گئی ہے (بقرہ47) اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے تم کو دنیا میں اپنی نمائندگی کے لئے چن لیا ہے۔ تم کو اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تم خدائی تعلیمات کے حامل بنو اور اس کو خدا کی طرف سے دوسری اقوام تک پہنچاؤ۔ اپنے اصل مفہوم میں یہ آیت نظریاتی فضیلت کے معنی میں تھی ۔ مگر یہود نے اس کو نسلی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ یہود کی نسل میں پیدا ہونا اس بات کے لئے کافی بن گیا کہ آدمی اس فضیلت کا مستحق ہو اور خدا کے انعامات اس کو حاصل ہوں۔ کتاب الہی کی اس تحریف (لفظ کو اس کے موقع ومحل سے پھیرنے) کو قرآن میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:

وَقَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرَى تَهْتَدُوْا ؕ قُلْ بَلْ وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو ہدایت یاب مِلَّةَ اِبْرَاهِيمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ہو جاؤ گے۔ کہہ دو نہیں۔ بلکہ ہم پیروی کرتے ہیں دین (بقرہ - ۱۳۵)

ابراہیم کی اور وہ شرک کرنے والوں میں نہ تھا۔

گویا ملت ابراہیمی کا فرد وہ ہے جو شرک سے اپنے کو بچائے اور سچی توحید پر قائم ہو۔ محض نسل ابراہیمی میں ہونے سے کوئی ملت ابراہیمی کا فرد نہیں بن جاتا۔ یہود کو جو "فضیلت" دی گئی وہ اپنے اصل مفہوم میں ایک سنگین ذمہ داری کو یاد دلانے والی چیز تھی مگر موقع ومحل سے ہٹانے کے بعد وہ بے خوفی کا محرک بن گئی۔ اللہ کا ایک حکم جو خشیت پیدا کرنے کا سبب بنتا، وہ قساوت پیدا کرنے والا بن گیا ــــــــــــ یہ تھی یہود کی تحریف ۔ اپنی اس قسم کی تحریفوں کے ذریعہ انھوں نے دین خداوندی کو ایک بے روح ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا تھا۔

حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ تم لوگ پچھلی امتوں کے راستہ پر چلو گے ـــــــــ (تتبعن سنن من كان قبلكم) چنانچہ مسلمانوں میں آج وہ سارے انحراف دیکھے جاسکتے ہیں جو سابق اہل کتاب میں پائے جاتے تھے۔ جس طرح یہود نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اللہ کے خصوصی بندے ہیں اور وہ ضرور نجات پائیں گے۔ اسی طرح ہم نے یہ عقیدہ قائم کر لیا ہے کہ "مسلمان خیر امت ہیں اور وہ سب کے سب مرحوم و مغفور ہیں یہ بات بجائے خود صد فی صد درست ہے۔ مگر وہ مسلم امت کے بارے میں ہے نہ کہ کسی مسلم نسل کے بارے میں ۔ امت کو نسل کے معنی میں لینا بلاشبہ يحرفون الكلم عن مواضعه کا مصداق ہے۔ اپنے نظریاتی مفہوم میں یہ بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ مگر جب اس کو نسلی مفہوم میں لے لیا گیا تو وہ صرف قساوت اور بے خوفی کا محرک بن کر رہ گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page