Al-Risala · August 1978 · page 14

حقائق کے بجائے خوش خیالیوں پر دین کی بنیاد

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴

حقائق کے بجائے خوش خیالیوں پر دین کی بنیاد

یہود کا نظریاتی فضیلت کو نسلی فضیلت کے معنی میں لینا یہ معنی رکھتا تھا کہ یہود کی نسل محض نسل کی حیثیت سے خدا کے نزدیک برگزیدہ ہے، اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر یہ ہوا کہ خدا پرستی اور یہودیت ہم معنی الفاظ بن گئے ۔ ان کا خیال یہ ہوگیا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں (مائدہ - ۱۸) یہودی اور نصرانی پیدا ہونا ہی ہدایت یا ب ہونا ہے ۔ (بقرہ - ۱۳۵) ہمارا کوئی آدمی جہنم میں نہ جائے گا اور اگر گیا بھی تو اس کا جانا صرف چند روز کے لئے ہوگا (بقرہ ۸۰) ۔ قرآن نے ان کی ان خوش خیالیوں کو امانی (بقرہ ۸۲) کہا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ اس قسم کے امانی خواہ یہود قائم کرلیں یا مسلمان قائم کریں، خدا کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ خدا کا ابدی قانون تو یہ ہے کہ جو شخص جیسا کرے ، اس کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے (نساء ۱۲۳)

امانی کے معنی ہیں بے بنیاد توقعات - عبداللہ بن عباس ، مجاہد اور فرار نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ موضوع روایات اور بے سند قصے ہیں جو یہودی علماء و مشائخ نے وضع کئے اور پھر پوری قوم میں رائج ہو گئے (اکاذيب مختلفة سمعوها من علمائهم فقلبوها علی التقلید ، التقليد،تفسیرنسفی) قوم یہود کے انتہائی مبالغہ آمیز فضائل ، یہودیت سے تعلق رکھنے والی معمولی معمولی چیزوں کے مقدس اور متبرک ہونے کی طلسماتی داستانیں کثرت سے ان کے درمیان پھیلی ہوئی تھیں ۔ پوری کی پوری قوم حقیقی عمل سے غافل تھی اور انھیں موضوع روایات اور بناوٹی قصے کہانیوں پر جی رہی تھی مثلاً ــــ تورات کے الفاظ ایک بار بھی جس کے کان میں پڑ گئے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔ اسرائیلی بزرگوں کا نام جس نے احترام ومحبت سے لے لیا، اس کے جنتی ہونے میں شبہ نہیں۔ ” قیامت کے دن ابراہیم“ دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہو جائیں گے اور کسی مختون اسرائیلی کو اس میں گرنے نہ دیں گے “ Talmud (Every man's Liberary Series)

Edited by Dr. Kohen, P. 404

ٹھیک یہی حال آج مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ کتاب اللہ کے بجائے کتاب الامانی ان کے دین کا ماخذ بنی ہوئی ہے۔ فضائل اعمال کی بے اصل روایات اور بزرگوں کے کشف و کرامت کی فرضی داستانیں بے شمار تعداد میں قوم کے اندر پھیلا دی گئی ہیں اور قوم کی قوم انھیں خوش خیالیوں کے سہارے جی رہی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں وضع حدیث کا سلسلہ ابتدائی سیاسی محرک کے تحت شروع ہوا۔ اپنی سیاست کے حق میں دینی تصدیق حاصل کرنے کے لئے ہر فرقہ نے بے شمار حدیثیں گھڑیں اور ان کو رسول اور اصحاب رسول سے منسوب کرکے عام میں پھیلا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اہل بیت کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے جو حدیثیں وضع کی گئیں ، صرف ان کی تعداد تقریباً تین سو ہزار ہے۔

یہی زمانہ ہے جب کہ مسلمانوں میں "فضائل اعمال" کی حدیثیں وضع کرنے کا رجحان ابھرا۔ اس کا محرک

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page