نجات کا راستہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸
اعتبار سے ایک نفسیاتی وجود ہے، اس لئے اس سے جو آخری عمل مطلوب ہو سکتا ہے، وہ بھی نفسیاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے اپنے بندوں کے دل کو دیکھتا ہے۔ دل کا جھکاؤ، دل کا خوف، دل کی فروتنی ہی وہ چیز ہے جو کوئی بندہ اپنے رب کو پیش کرتا ہے ـــــ "اللہ کو تمہاری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (حج۔ ۳۷) تاہم انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس کے دل میں جو کیفیت وہ ضرور اس کے جسم اور اس کی خارجی سرگرمیوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک شخص کو اپنے بیٹے سے پیار ہو تو اس کے عمل سے بھی اس پیار کا اظہار ہوگا۔ کوئی شخص سانپ سے ڈر رہا ہو تو اس کی حرکات بھی ضرور اس کی اس کیفیت کی گواہی دیں گی۔ اسی طرح خدا کے آگے اپنے آپ کو صغیر (چھوٹا) بنانا اگر چہ باعتبار حقیقت ایک قلبی حالت ہے۔ لیکن جب وہ کسی دل کے اندر واقعی معنوں میں پیدا ہو جائے تو اس کے اعضا و جوارح اور اس کے حرکات واعمال سے بھی لازماً اس کا اظہار ہو گا۔ نتیجہ پوری زندگی اس کے دائرہ میں آتی چلی جائے گی۔
حقیقی خدا پرستی، جو آدمی کے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ ہوگی، یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کو پورے معنوں میں خالق، مالک، رب اور محاسب و مجازی تسلیم کرے، اس کے ساتھ کسی معاملہ میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ پھر دل و دماغ میں اس کی بڑائی کے احساس کو جگہ دے۔ اس کا اندرونی وجود، اس کی احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہو اور اسی کی طاقت وقوت کے خوف سے کانپتا رہے ۔ پھر اس کا ہاتھ ہو، اس کا پاؤں ، اس کی آنکھ ، اس کی زبان اور اس کے تمام اعضا و جوارح اسی دائرہ کے اندر اپنے وظائف ادا کریں جو خدا نے اپنی شریعت میں ان کے لئے مقرر کیا ہے۔ اس کی پوری ہستی اس دعا کی عملی تفسیر بن جائے، جو رکوع اور سجدہ میں پڑھنے کے لئے ہمیں تلقین کی گئی ہے: اللَّهُمَّ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي و بصری ومخی و عظمی و عصبی خدایا تیرے لئے جھک گیا میرا کان، میری آنکھ، میرا مغز میری ہڈی اور میرے اعصاب اسی طرح انسانوں سے تعلقات اور دنیا کے مختلف معاملات میں وہ اسی رویہ کو اپنائے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور اس رویہ سے پوری طرح بیزار ہے جس سے خدا نے منع کیا ہے ــــــــــ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو دنیا کے پیچھے اپنی پوری زندگی لگا دے۔ اسی طرح آخرت کی نجات کا حق دار بھی وہی ہوگا جس نے اپنی زندگی کو اس کی راہ میں پوری طرح کھپا دیا ہو۔
پچھلے مذاہب میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ تھی کہ انھوں نے دیکھا کہ دنیا میں غلطی کا نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ یہاں ایک غلطی کرنے کے بعد اس کے انجام سے بچنا ممکن نہیں۔ کوئی شخص غصہ میں آکر اپنے بیٹے کا ہاتھ کاٹ ڈالے تو وہ ہمیشہ کے لئے بے ہاتھ ہو جائے گا۔ اس کے بعد کا کوئی بھی عمل اس کے بیٹے کو دوبارہ ہاتھ والا نہیں بنا سکتا۔ اس پر قیاس کر کے سمجھ لیا گیا کہ اعمال کے اخروی نتائج بھی لازمی ہیں۔ ان سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔
اس ذہن نے مذاہب میں دو بڑے مدارس فکر پیدا کئے۔ ایک وہ جس کو تناسخ ارواح کہا جاتا ہے۔ اس فکر کے ماننے والوں نے یہ گمان کر لیا کہ آدمی بار بار جنم لے کر اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتتا رہتا ہے۔ انسان کی حالت میں اگر وہ غلطی کرے تو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues