نجات کا راستہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۹
دوسرے جنم میں وہ کسی نچلی مخلوق کے شکل میں اٹھتا ہے۔ اس طرح بے شمار جنموں میں اپنے اعمال کی پاداش بھگتنے کے بعد بالآخر جنت میں پہنچتا ہے۔
دوسراذہن جو اتنی لمبی سزا کو بھگتنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس نے کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا۔ اس عقیدہ کے مطابق، انسان کے گناہوں کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ گناہ ایک ایسا عمل ہے جو ایک مرتبہ سرزد ہو جائے تو اس کے نتائج سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ انسان کو اس لازمي عذاب سے بچانے کے لئے خدا نے یہ کیا :’’کہہ اس نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا۔ خدا کے بیٹے نے انسان کی صورت میں مجسم ہو کر تمام نوع انسانی کے گناہوں کو اپنے سر پر لے لیا اور اس کی تلافی کی لئے خود سولی پر چڑھ گیا ۔ اس طرح گویا خدا خود قربان ہو کر نسل انسانی کے گناہوں کا کفارہ بن گیا۔ قرآن نے انسان کو اس عظیم الشان گمراہی سے نکالا اور صاف لفظوں میں اعلان کیا : " کہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، یقیناً اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے (زمر۔ ۵۳) اسلام نے بتایا کہ انسان اور اس کے عمل کے درمیان ایک اور ہستی ہے۔ یہ خدا ہے جو ساری قوتوں کا مالک ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ جو چیز چاہے باقی رکھے، جو چیز چاہے مٹا دے ۔ آدمی گناہ کرنے کے بعد اگر پلٹ آئے۔ وہ اپنی روش کی اصلاح کر کے خدا سے معافی مانگے تو وہ دوبارہ پاک صاف ہو جاتا ہے، حتی کہ ایسا ہو جاتا ہے گویا آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے (کیوم ولدتہ امہ) اسلام کے ذریعہ اللہ نے اپنی جن رحمتوں کا اعلان کیا ہے، وہ یہیں تک محدود نہیں ۔ ان کا سلسلہ اس سے بہت آگے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی رحمتیں اتنی وسیع ہیں کہ وہ کبھی خود تمہارے گناہوں کو نیکیوں کے خانہ میں لکھ دیتا ہے۔ اس کی قدرت کا ملہ تمہاری غلطیوں کے اندر سے تمہارے لئے نئی کامرانی کے مواقع کھول دیتی ہے۔ یہ نہ صرف رحمت خداوندی کا انتہائی اعلیٰ تصور ہے۔ بلکہ یہ اصول خود انسانی نفسیات کو سمجھنے کا نیا دروازہ کھولتا ہے۔ اور انسان کو ان بے پایاں امکانات سے باخبر کرتا ہے جو اس کے خدا نے اس کے لئے اس کائنات میں رکھ دیئے ہیں۔ زید بن ثابت انصاری عربی زبان کے علاوہ فاری موسیٰ بن سبار اسواری کے متعلق جاحظ نے لکھا رومی، قبطی، حبشی اور سریانی زبانیں جانتے تھے۔
ہے کہ ان کو عربی اور فارسی دونوں پر یکساں عبور حاصل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیگر زبانوں میں جو تھا۔ ان کی مجلس میں دائیں جانب عرب ہوتے تھے اور خطوط آتے تھے ، ان کا جواب لکھتے تھے۔
بائیں جانب ایرانی ۔ وہ قرآن کی ایک آیت پڑھ کر عربوں وہب بن منبہ عربی کے علاوہ یونانی زبان جانتے کے لئے اس کی شرح عربی میں بیان کرتے، اور پھر تھے۔ انھوں نے یمن میں رہ کر یہودیوں اور عیسائیوں بائیں جانب منہ پھیر کر ایرانیوں کے لئے فارسی میں تفسیر کی تاریخ معلوم کی ۔ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اسلام کرتے ۔ اور یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کس زبان میں زیادہ میں انبیاء کے قصے لکھے۔
خوبی کے ساتھ بول رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues