Al-Risala · August 1978 · page 31

دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱

قربانیاں دی گئی ہیں جو تین سو سالہ صلیبی جنگوں کی مجموعی قربانی سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر فلسطین کا مسئلہ نہ صرف یہ حل نہیں ہوا۔ بلکہ جہاں نہ ۴۸ میں تھا، آج اس سے کہیں زیادہ دور جا چکا ہے۔

اس مدت میں ہمارے درمیان ایسے قائدین اٹھے جن کو بادشاہوں تک کا تعاون حاصل تھا ( شاہ ولی اللہ، جمال الدین افغانی ) ہم نے ایسی تحریکیں اٹھائیں جنھوں نے عظیم ترین آبادی والے ملک کے تقریباً تمام مسلمانوں کی تائید حاصل کرلی (مسلم لیگ) حتیٰ کہ ہمارے درمیان ایسی بھی تحریکیں اٹھیں جن کو تمام عالم اسلام کی مشترکہ حمایت حاصل تھی (فلسطینی تحریک) ایسے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ ہوسکی ۔ آج بھی یہ حال ہے کہ کسی جماعت کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ اس کے دینی اجتماعات میں دس دس لاکھ مسلمان شریک ہوتے ہیں (ہندوستان) کسی اسلامی تحریک کے اپنی مقبولیت کو بتانے کے لئے یہ پر فخر الفاظ پا رہے ہیں کہ ملک کا ہر فرد ان کے اسلامی نظام کے پروگرام سے اتفاق کرتا ہے (پاکستان) یہ سب کچھ ہے مگر وہی چیز حاصل نہیں ہوتی جو تمام قائدین اور جماعتوں کا مشترکہ مقصد ہے یعنی اسلام کا غلبہ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان کی حیثیت اس دنیا میں خدا کے نمائندہ کی ہے۔ وہ آسمانی کتاب کے حامل ہیں۔ اس کے کسی گروہ کی قسمت تمام تر اس کتاب کے ساتھ بندھی ہوئی ہوتی ہے۔ خدا کی نظر میں ان کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ دنیا کی قوتوں کے سامنے خدا کی کتاب کا اعلان و اظہار کر رہے ہوں۔ اس کام کو چھوڑنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں اسی طرح بے قیمت ہو جائیں گے جس طرح پچھلے حاملین کتاب بے قیمت ہو گئے۔ کوئی دوسرا کام خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کیا جائے، خدا کی نظر میں ہم کو قیمت والا نہیں بنا سکتا۔

۱۹۶۲ میں چین نے ہندوستان کی مشرقی سرحد پر حملہ کیا۔ چینی فوجیں آسام کے علاقہ میں گھس آئیں۔ اس وقت تیز پور (آسام) میں جو ہندوستانی کمشنر تھا وہ اپنا دفتر چھوڑ کر بھاگ گیا اور اپنے وطن میں آکراپنے بیوی بچوں کے ساتھ مقیم ہو گیا۔ حکومت کو معلوم ہوا تو اس نے کمشنر کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اس پر سرکاری ڈیوٹی چھوڑنے کا مقدمہ چلایا گیا اور اس کو سخت سزا دی گئی۔ بچوں میں رہنا یا اپنے گھر کا انتظام سنبھالنا عام آدمیوں کے لئے کوئی غلط بات نہیں۔ مگر کمشنر کے لئے یہی بات نا قابل معافی جرم بن گئی۔ کیوں کہ کمشنر کی قیمت ”تیز پور“ میں تھی۔ گھر کے اندر نہ تھی۔ اگر وہ اپنے ڈیوٹی کے مقام پر جمارہتا تو اس وقت وہ حکومت کا نشان ہوتا۔ بلکہ وہ حکومت کے لئے عزت کا سوال بن جاتا حکومت اس کو بچانے کے لئے اپنی پوری طاقت لگا دیتی۔ مگر جب اس نے اپنی وہ جگہ چھوڑ دی جہاں اس کو رکھا گیا تھا تو حکومت کی نظر میں اس نے اپنی قیمت کھو دی ۔ اب وہ ہر حال میں مجرم تھا خواہ کسی اور میدان میں وہ کتنی ہی سرگرمیاں دکھار ہا ہو، خواہ وہ بظاہر صحیح اور مفید ہی کام کیوں نہ کر رہا ہو۔

ہماری نجات اور کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم خدا کی کتاب کی طرف لوٹیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح سنت الہی کی زد میں آجائیں جس طرح اس سے پہلے یہود آگئے ۔ اور اس کے بعد نہ دنیا میں ہماری کوئی قیمت ہو اور نہ آخرت میں۔ دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت قرآن اور احیاء سنت کا نام دینا صرف ہمارے وزر (بوجھ) میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں ہماری نجات کا سبب نہیں بن سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page