Al-Risala · August 1978 · page 30

دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰

اولاً تو حلف الفضول تعمیری دوروں کی کوئی مہم نہ تھی۔ وہ عملی داد رسی کا عہد نامہ تھا۔ دوسرے نبوت ملنے کے بعد آپ نے خود حلف الفضول کی تجدید نہیں کی بلکہ اس میں شرکت کو دوسروں کی پکار پر مشروط رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلف الفضول بجائے خود ایک جائز اور مطلوب کام ہونے کے باوجود بہر حال فلاح دنیا کے ذیل کا ایک پر وگرام تھا۔ جب کہ نبوت کا اصل مشن فلاح آخرت کا پیغام ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ قائدین نے اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چھیڑ دی اور اعلان کیا کہ شریعت اسلامی کے نفاذ اور قیادت صالحہ کے قیام کے لئے ہم ایسا کر رہے ہیں۔ حالاں کہ صریح ہدایات کے مطابق اسلام میں یہ جائز ہی نہیں کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی منازعت کی جائے ۔

اس قسم کی تمام "اسلامی" مہمیں جن میں مسلمان موجووہ زمانہ میں مشغول رہے ہیں وہ رب کی سب "يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُ و ابِمَالَمْ يَفْعَلُوا" کا مصداق ہیں۔ یہ ایک غیر اسلامی کام کے لئے اسلام کا کریڈٹ لینے کی کوشش ہے۔ اس اس قسم کی کوشش ہمیشہ خدا کی نصرت سے محروم رہتی ہے ، اس لئے خواہ وہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کی جائے ، دہ بہر حال بے نتیجہ رہے گی ۔ وہ امت کے لئے کسی حقیقی کامیابی کا باعث نہیں بن سکتی ۔ بائبل کی روایات کے مطابق دارا بادشاہ (پانچویں صدی قبل مسیح) کے زمانہ میں ایک سچی نبی گزرے ہیں۔ انھوں نے یہود کی بگڑی ہوئی حالت پر ان کو تنبیہ کی ۔ انھوں نے تمثیلی زبان میں کہا :

رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو ۔ تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے تم نے بہت کی امید رکھی اور دیکھو تھوڑا ملا اور جب تم اسے اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اُڑا دیا۔ کیوں۔ اس لئے کہ میرا گھر ویران ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑا چلا جاتا ہے۔ اس لئے نہ آسمان سے اوس گرتی ہے اور نہ زمین اپنا حاصل دیتی ہے ۔ (باب اول)

یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا انجام ہوا ہے۔ انھوں نے "بہت بویا پرتھوڑا کاٹا‘‘۔ عالی شان تحریکوں اور دھواں دھار کانفرنسوں کا حاصل عملاً اتنا کم ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ہمارا ہر قائد اپنی "محنت کی کمائی"، کو سوراخ دار تھیلی میں جمع کر رہا ہے ۔

. شاہ ولی اللہ دہلوی ( - ۱۷۰۳ء) نے احمد شاہ ابدالی کے ذریعہ مرہٹوں پر حملہ کرایا۔ سید احمد بریلوی (۱۸۳۱ - نے سکھوں سے جہاد کیا۔ مگر عملاً اس کا فائدہ صرف انگریز کو پہنچا۔ سید قطب مصری (۱۹۶۶ - اور ان کے ساتھیوں نے شاہ فاروق کے خلاف قربانیاں دیں۔ مگر اس کا فائدہ تمام تر فوجی افسروں کے حصہ میں چلا گیا ۔ پاکستان میں اسلام پسندوں نے جمہوریت کے ذریعہ اسلام کا اقتدار لانے کے لئے ۳۰ سال تک سرفروشی کی ۔ مگر اس کا فائدہ مسٹر بھٹو اور جنرل ضیاء الحق جیسے لوگوں کو ملا۔ ۱۳۷۴ء میں جامعہ ازہر سے ایک جلوس نکلا جس کی قیادت شیخ حسن البنا (۱۹۴۸ - ۱۹۰۶) کر رہے تھے۔ ہزاروں پر جوش مسلمانوں نے قاہرہ کی سڑکوں پر لبیک یا فلسطین (اے فلسطین ہم حاضر ہیں) کے نعروں کے ساتھ اسرائیل کے خلاف اپنی جدو جہد کا آغاز کیا۔ پچھلے ۳۵ سال میں اس مہم میں جان و مال کی اتنی زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page