قال اللہ ، قال الرسول
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴
قال اللہ ، قال الرسول
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔ جب وحشی جانور اکٹھے ہو جائیں گے۔ جب دریا بھرکائے جائیں گے۔ جب ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھا کئے جائیں گے۔ جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔ جب اعمال نامے کھولے جائیں گے۔ جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ جب، دوزخ دہکائی جائے گی۔ جب جنت قریب لائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ (تکویر)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔ جب ستارے جھڑ جائیں گے۔ جب دریا بہہ پڑیں گے۔ جب قبریں کھول دی جائیں گی۔ اس وقت ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو جان لے گا۔ اے انسان تجھ کو کس چیز نے اپنے مہربان پروردگار کے متعلق بھول میں ڈال رکھا ہے۔ جس نے تجھ کو پیدا کیا۔ پھر تجھ کو درست کیا۔ پھر تجھ کو برابر کیا۔ اور جس صورت میں چاہا تم کو جوڑ دیا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ تم انصاف ہونے کو جھوٹ جانتے ہو۔ حالانکہ تمہارے اوپر نگہبان مقرر ہیں۔ معزز لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے۔ اور یقیناً برے لوگ دوزخ میں ہوں گے۔ انصاف کے دن اس میں داخل ہوں گے۔ وہ اس سے چھپ نہ سکیں گے۔ اور تم کو کیا خبر کہ وہ انصاف کا دن کیا ہے۔ اس دن کوئی کسی کا کچھ بھلا کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ حکم اس روز صرف اللہ کا ہوگا (انفطار)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔ وہ اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور یہی اسے واجب ہے۔ جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور جو کچھ اس کے اندر ہے باہر اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی۔ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور یہی اسے واجب ہے۔ اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔ پھر جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا۔ اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا، وہ موت کو پکارے گا۔ وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا۔ وہ اپنے لوگوں میں خوش خوش رہتا تھا۔ اس نے گمان کر رکھا تھا کہ خدا کی طرف لوٹنا نہیں ہے۔ کیوں نہیں۔ اس کا رب اس کو خوب دیکھ رہا تھا۔ (انشقاق)
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ آسمان میں چرچراہٹ ہو رہی ہے اور حق ہے کہ اس میں چرچراہٹ ہو۔ آسمان میں چار انگل جگہ بھی نہیں مگر ایک فرشتہ اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اللہ کے لئے سجدہ میں پڑا ہوا ہے۔ خدا کی قسم اگر تم وہ باتیں جانو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ عورتوں میں تمہارے لئے لذت باقی نہ رہے۔ تم خدا کو پکارنے ہوئے میدانوں کی طرف نکل جاؤ۔ (ترمذی)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues