Al-Risala · September 1978 · page 3

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قرآن کو پڑھ کر بڑا ڈر لگنے لگتا ہے ، شری تیج پال سنگھ نے کہا " اس میں تو بس آگ کی اور جہنم کی باتیں ہیں “ یہ دہلی کے ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم کے تاثرات ہیں۔ انھوں نے قرآن کا ہندی ترجمہ پڑھا تھا اور اس کے بعد دسمبر ۱۹۷۹ میں راقم الحروف سے مندرجہ بالا الفاظ کہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں سب سے زیادہ چیز کا بیان ہے ، وہ آخرت کا عذاب ہی ہے۔ اسی کو قرآن کا مقصد نزول بتایا گیا ہے : وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ الیک قراً نا عربياً لتنذر ام القرى ومن حولها وَتُنْذِرَ يَوْمَ الجمع لا ريب فیه۔ فریق فى الجنة و فريق فى السعیر (شوری 4)

اور ہم نے عربی قرآن تمہارے اوپر اتارا تا کہ تو اس بڑی بستی اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دے جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں ۔ طریقوں سے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تمہارا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ اس لئے وہاں کی کچڑے سے بچنے کی کوشش کرو۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا انْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلئكَةٌ غِلَاظٌ شداد ( انعام - ۶ )

اے ایمان والو اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن ہیں آدمی اور پتھر۔ اس پر سخت دل اور زور آور فرشتے مقرر ہیں۔

تمام انبیاء اسی لئے آئے کہ وہ لوگوں کو آنے والے دن کی چیتاونی دے دیں (انعام ۱۳۰)- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس دعوت رسالت کا حکم دیا گیا، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھی : وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْأَزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ (مومن - ۱۸)

توثر ، زیکارو... روهس ، بئنرا ایک موشار ، مارداد عرقه اور اس آنے والے دن سے ان کو ڈراجب کہ کلیجے منھ کو آجائیں گے ، غم سے بھرے ہوۓ ۔

قريش نے ملی دور میں اپنے ایک ہوشیار سردار عتبہ بن ربیعہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ سے گفتگو کر کے معلوم کرے کہ آپ کا پیغام کیا ہے۔ واپسی کے بعد عتبہ نے اپنے ساتھیوں کو رپورٹ دی اس کے الفاظ یہ تھے :

ما فهمت شيئا مما قال غير انه انذركُم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود اس ، احساس کے تحت یہ کہانی شائع کی جارہی ہے انہوں نے جو کچھ کہا اس سے میں اس کے سوا اور کچھ نہیں سمجھا کہ وہ تم لوگوں کو عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتے ہیں کر تمام مضامین کا موضوع ۶ آخرت میں مر کر دوبارہ اسی احساس کے تحت یہ کتابچہ شائع کیا جارہا ہے ۔ اس کے تمام مضامین کا موضوع آخرت ہے ۔ تا ہم وہ معروف تصنیفی ترتیب کے مطابق تیار نہیں کیا گیا ہے ۔ اس کا انداز ترتیب شذرات یا خواطر کا سا ہے ۔ اس کو جو چیز ایک مسلسل کتاب بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ہر صفحہ کا موضوع آخرت کی چیتاونی ہے۔ مختلف پہلوؤں سے اس سنگین مسئلہ کو ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے جو موت کے بعد آدمی کے سامنے آنے والا ہے وحیدالدین ، ۱۵ مئی ۱۹۷۸ء

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page