فانی بدایونی نے کہا ہے کہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶
تعریف سے خوش ہونا اور تنقید سے گھبرانا، پستی کی علامتیں ہیں۔
فانی بدایونی نے کہا ہے کہ
دنیا کی رنگینیاں انتہائی بے حقیقت ہونے کے باوجود اپنے ظاہر میں اتنی پرکشش ہیں کہ انسان ان کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے ۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص دھوکا دینے والے ان مناظر سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل ! اے معاذ اللہ کہا جاتا ہے کہ خلائی راکٹ جب اپنی گردش کے دوران زمین کے مدار سے نکل کر دوسرے سیارہ کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو تحول کے نقطہ پر دھماکہ کے ساتھ زبردست آواز پیدا ہوتی ہے ۔ یہی قانون شاید انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل کر ک آزاد شعوری مدار میں اس وقت داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے اس فکری خول کو توڑنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جائے جو روایات اور ماحول کے اثر سے محض اتفاقی طور پر اس کے گرد بن گیا ہے ۔
کوئی شخص کب اس قائل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو روایتی مدار سے نکال کر آزاد مدار کی طرف لے جانے کا بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھایا یا اس میں شک نہیں کہ دنیا کی رنگینیوں سے اپنے کو اوپر اٹھا لینا سخت مشکل کام ہے ۔ تاہم کم تعداد میں سہی ، ایسے لوگ پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتے ہیں ، مگر اس سے بھی زیادہ مشکل ہے خود اپنی ذات سے اوپر اٹھنا ۔ اس پہلو سے دیکھیے تو کامیاب افراد کی تعداد کم یابی سے گزر کر نایابی تک پہنچ جائے گی یہ وہ مقام ہے جب کہ آدمی مقید فکر (CONDITIONED THINKING) سے باہر آ جاتا ہے ۔ ہر آدمی جن حالات میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے ، اس کے لحاظ سے ماحول اور روایات کا ایک ہالہ اس کے گرد قائم ہو جاتا ہے ۔ اس کا ایک فکری مدار (ORBIT) بن جاتا ہے جس میں وہ گھومتا رہتا ہے ۔ اس غیر محسوس مدار سے باہر آ کر سوچنا اور مکمل طور پر آزادانہ رائے قائم کرنا اس قدر دشوار ہے کہ وہ لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں جو آزادانہ فکر کے علم بردار بنے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
مل نہ شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے: جب وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید اسے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے ۔
اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ اس کو تعریف اور تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لئے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں۔ بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے باوجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر رہا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues