کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے
انسانوں کی دنیا سے دور خدا کی دنیا کتنی حسین ہے“، میری زبان سے نکلا۔ میں ایک ٹیلہ پر کھڑا تھا۔ قدرت کے آفاقی مناظر میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ ”کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے۔ بقیہ کائنات کو خدا انتہائی محکم بنیادوں پر چلا رہا ہے۔ مگر انسانوں سے اس کو مطلوب ہے کہ وہ کرامتوں کی ایک پر اسرار دنیا بنا کر اس کے اندر طلسماتی کارنامے دکھائیں۔ خدا کو شیشم یا چنار کا ایک درخت اگانا ہو تو وہ سو سال کا ہمہ گیر منصوبہ بناتا ہے۔ مگر اپنے بندوں سے وہ چاہتا ہے کہ نعروں اور تقریروں کا طوفان اٹھا کر آنا فاناً حالات کو بدل ڈالیں۔ کائناتی کارخانہ میں ہر طرف نفع رسانی اور منفعت بخشی کا سیلاب بہہ رہا ہے۔ مگر کائنات کا مالک اپنے بندوں سے جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ کہ وہ دوسروں کو ” نقصان پہنچانے“ کا کمال دکھائیں اور خیر امت ہونے کا ٹائٹل حاصل کریں ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں وہ ہر آن متحرک ہے۔ مگر مدرسوں اور خانقاہوں میں وہ تقلید اور جمود پر راضی ہو گیا ہے ۔ پھولوں اور پتیوں میں وہ خوش ذوقی کا دریا بہا رہا ہے۔ ہوا کے جھونکوں اور پانی کے جھرنوں میں وہ لطافت کا خزانہ بکھیر رہا ہے۔ آسمان کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی میں وہ خاموش عظمتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مگر انسانوں سے اس کو مطلوب ہے کہ وہ گدھے اور کوے کی طرح چیخیں اور احتجاج اور مطالبات کی غوغا آرائی کریں۔ ہری بھری گھاس سے لے کر نیلے آسمان تک ہر طرف اتھاہ حکمت نظر آتی ہے۔ ہر جگہ انتہائی با معنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر اپنے بندوں سے خدا ایسی عبادات پر راضی ہے جس میں کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرالینے سے بڑے بڑے مقامات طے ہوتے ہیں اور عالی شان جنتیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ کائنات کی سطح پر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی دنیا رنگ اور خوشبو بکھیرنے والے پھولوں اور پیار اور بے نفسی کا سبق دینے والی چڑیوں کے لئے ہے۔ مگر دین کے ٹھیکیدار آج جس دین کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی جنت گویا نکھے لوگوں کا بڑا خانہ ہے یا سحروں کی نمائش گاہ حقیقت یہ ہے کہ جو دین آج مقررین اسلام اور مفکرین ملت ہر طرف تقسیم کر رہے ہیں، اس کو دین کہنا قرآن پر اتہام ہے۔ اسامہین خدا کی اس عظیم اور حسین کائنات میں ایک مسخرہ پن کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کی جنت لطیف ترین سرگرمیوں (بس ھ ھ) کی ایک دنیا ہوگی۔ موجودہ دنیا میں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو ان اعلی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل ثابت ہوسکیں۔ یہ اہمیت حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر الہی اوصاف پیدا کرے (تخلقوا باخلاق اللہ) وہ ذاتی میلانات کی پست سطح سے اوپر اٹھ جائے اور خدائی شعور کی بلند سطح پر جینے لگے۔ تقریری چمیتکار یا عملیاتی کرشموں کو جنت کا دروازہ سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سرکس میں کمال دکھا کر سمجھے کہ وہ ملک کا وزیر اعظم بننے کا استحقاق پیدا کر رہا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues