کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰
ہار آخرت کی ہار ہے اور جیت آخرت کی جیت قرآن کی سورہ نمبر ۶۴ میں ارشاد ہوا ہے :
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ جب اللہ تم کو جمع کرے گا۔ جمع ہونے کے دن ۔ یہی دن ہے ہار جیت کا۔
تغابن کا لفظ ایسے معاملے کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ ایک فریق نیچا رہے اور دوسرا فریق اونچا ۔ ایک کو گھاٹا ہو اور دوسرا نفع اٹھا لے جائے ۔ مطلب یہ کہ لوگ غلط فہمی سے اسی دنیا کو ہار جیت (تغابن) کا دن سمجھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہار جیت کا دن دراصل آخرت ہے۔ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مقاتل بن حیان نے کہا ہے : لَا غَبْنَ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يُدْخِلَ هَؤُلَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ کوئی ہار جیت اس سے بڑی نہیں کہ ایک گروہ کو جنت دِينَ ذَهَبَ بِالثَّلِثِ إِلَى النَّارِ (ابن کثیر) میں داخل کیا جائے اور دوسرے گروہ کو جہنم میں ڈالا جائے ۔ دنیا میں شہرت ، عزت، دولت، اقتدار اور عیش کے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہیں ۔ ہر شخص اپنے اپنے حالات کے مطابق ان کی طرف دوڑ رہا ہے۔ جو شخص ان مواقع میں سے کوئی حصہ اپنے لئے پالیا ہے اس کے اندر فخر کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ان کو نہیں پاتا، اس کو لوگ حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ عام خیال یہ ہو جاتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اسی دنیا کو ہار جیت کی جگہ سمجھتے ہیں۔ ان کا ذہن یہ ہو جاتا ہے کہ اسی دنیا کی جنت ، جنت ہے اور یہیں کی دوزخ ، دوزخ ۔ قرآن نے بتایا کہ محض دھوکا ہے ۔ ہار جیت تو دراصل وہ ہے جو اگلی زندگی میں سامنے آنے والی ہے ۔ وہ لوگ جو دنیا میں اپنے کو فاتح سمجھتے ہیں ، جب پردہ ہٹے گا تو یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اصل حقیقت تو کچھ اور تھی۔ وہاں جا کر معلوم ہوگا کہ کون گھاٹے میں رہا اور کون نفع کما لے گیا۔ اصل میں دھوکا کس نے کھایا اور کون ہوشیار نکلا۔ کون زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا اور کون آگے بڑھنے والا ثابت ہوا۔ کس نے اپنی صلاحیتوں کو نتیجہ خیز کام میں لگایا اور کون تھا جس نے اپنی تمام تو توانائیوں کو وقتی تماشوں میں برباد کر ڈالا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہار اسی کی ہے جو آخرت میں ہارا اور جیت صرف اس کی ہے جس کو آخرت میں جیت حاصل ہوئی۔ وہ لوگ جو دنیوی مصلحتوں میں مہارت دکھا کر آج کی دنیا میں عزت اور ترقی حاصل کر رہے ہیں ، کل کی دنیا میں ان کی یہ مہارتیں بالکل بے کار ثابت ہوں گی۔ مرنے کے بعد جب وہ آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں کے حالات میں عزت کی جگہ پانے کے لئے وہ اسی طرح اپنے آپ کو نا اہل پائیں گے جس طرح ایک قدیم طرز کا دستکار روایتی ماحول میں باکمال نظر آتا ہے لیکن اگر اس کو ٹیکنکل معاشرہ میں پہنچا دیا جائے تو وہ بالکل بے قیمت ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues