Al-Risala · September 1978 · page 21

کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱

ہمارے اور آخرت کے درمیان صرف ایک غیر یقینی دیوار حائل ہے چنالا (دھنباد) میں ایک پرانی کوئلہ کی کان تھی جو ۱۹۰۹ء سے بند تھی ۔ ساڑھے چار سو فٹ گہری اس کان میں دھیرے دھیرے پانی بھر گیا۔ اس سے ۸۰ فٹ کے فاصلہ پر دو سال پہلے ایک اور کان کھودی گئی۔ عالمی بنک اور بیرونی ماہرین کی مدد سے تیار کی ہوئی یہ کان جدید طرز کی مشینوں سے آراستہ تھی ۔ 27 دسمبر ۱۹۷۶ء کو اس کان میں ایک بھیانک حادثہ ہوا۔ دونوں کانوں کے درمیان ۸۰ فٹ کا فاصلہ کافی محفوظ فاصلہ سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اچانک اس کے اندر تقریباً ۶۰ فٹ چوڑا شگاف ہو گیا اور اس کے اندر سے پرانی کان کا پانی نئی کان میں اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ صرف تین منٹ کے اندر نئی کان بھر گئی ۔ ۴۷۲ مزدور اور انجینئر جو اس وقت کان کے اندر کام کر رہے تھے ایک سوطین گیلن سے بھی زیادہ پانی کے سیلاب میں غرق ہو گئے ۔ صرف ایک شخص بھگوان سنگھ (مونگیر) بچا جو حادثہ سے صرف چند منٹ پہلے باہر آگیا تھا ۔ یہ واقعہ حیرت انگیز طور پر ہماری زندگی کی تصویر ہے۔ ہماری موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کے درمیان موت کی غیر یقینی دیوار حائل ہے ۔ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ دیوار ٹوٹ جائے اور آخرت کے حقائق ایک بے پناہ سیلاب کی طرح ہمارے اوپر پھٹ پڑیں۔ اس وقت کوئی زور اور کوئی لفظی بازی گری کام نہ آئے گی۔ آدمی بالکل بے سہارا ہو کر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہوگا۔ وہ سارے لوگ ناکامی اور بربادی کے دائمی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر گم تھے کہ کوئی نصیحت کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہ ہوتے تھے صرف وہ شخص بچے گا جس نے مالک کائنات کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے سے پہلے خود اپنا حساب کر لیا ہوگا۔ بہت سے دیوار اٹھانے والے اپنی دیوار کو گرارہے ہیں۔

بہت سے لوگ جو اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھ رہے ہیں، وہ دوسروں کے پیروں تلے روندے جائیں گے۔

یہ اس دن ہوگا جب خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا، جب سارے انسانوں سے پوچھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا اور اپنے آگے کے لیے کیا روانہ کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page