زلزلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴
جب مادی حالات کے اندر بھی روحانی دعائیں نکلنے لگیں حضرت موسیٰ پر قتل کا الزام عائد کر کے جب مصری سرداروں نے مشورہ کیا کہ انھیں ہلاک کر دیں، تو آنجناب مصر سے مدین چلے گئے۔ مدین اس زمانہ میں ، خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی کناروں پر واقع علاقہ کو کہا جاتا تھا جہاں بنی مدیان آباد تھے۔ یہ مقام فرعون مصر کی سلطنت سے باہر تھا۔ اس لئے حضرت موسیٰ نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا۔
قرآن پاک میں ہے کہ جب آپ خوف اور اندیشہ کی حالت میں سفر کر رہے تھے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا :
عَسَىٰ رَبِّي أَنْ يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ (قصص - ۲۲)
امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستہ کی طرف رہنمائی کرے گا۔
بعض مفسرین قرآن نے اس کو محض راستہ کی تلاش کے معنی میں لیا ہے۔ ایک مفسر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیر یت مدین پہنچ جاؤں،"
یہ الفاظ اس کیفیت کی ترجمانی کے لئے بہت ناقص ہیں جو حضرت موسیٰ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، یہ ایک مومنانہ کلمہ ہے نہ کہ عام معنوں میں محض ایک راستہ کے مسافر کی دعا۔ حضرت موسیٰ کو اگر چہ مادی حالات نے مصر سے نکال کر مدین کے راستہ پر ڈالا تھا، مگر بندہ مومن کا یہ حال ہوتا ہے کہ مادی واقعات کے اندر بھی اس کی زبان سے روحانی دعائیں نکلتی ہیں۔ بظاہر وہ اسی زمین میں راستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے مگر زمین میں راستہ کی تلاش اس کے لئے دوسری دنیا کی یاد دہانی بن جاتی ہے، وہ اس کے ذہن کو آخرت کی وادیوں میں پہنچا دیتی ہے۔ اس کے قدم دنیوی منزل کی طرف چل رہے ہوتے ہیں، مگر اس کے اندر کا طوفان پکار رہا ہوتا ہے ـــــــ " خدایا ! مجھے وہاں پہنچادے جہاں میں تجھ کو پاسکوں۔ کیوں کہ انسان کی حقیقی منزل وہی ہے ؛
حضرت موسیٰ کا یہ کلمہ ایک نازک ایمانی کیفیت کا کلمہ ہے، اس کو سفر اور جغرافیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنے رب کو پالیں، ان کے جینے کی سطح بالکل دوسری ہو جاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ آج کی لذتوں اور تلخیوں کو دیکھتے ہوئے کل کے جنت اور جہنم کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالت غیب میں رہتے ہوئے حالت شہود میں پہنچ جائے۔ غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگر یہ اس وقت ہو گا جب کہ غیب و شہود کا فرق مٹ چکا ہوگا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ سارے پردوں کو پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ ایمان ویقین کا ثبوت دینے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues