Al-Risala · September 1978 · page 35

زلزلہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵

سرکس ہو رہا تھا۔ تماشائیوں کو طرح طرح کے کھیل دکھائے جا رہے تھے۔ اتنے میں ایک "انسان" لوگوں کے سامنے لایا گیا۔ اس نے عجیب عجیب تماشے دکھا کر لوگوں کو خوش کرنا شروع کر دیا۔ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا تھا کہ تماشائیوں میں سے ایک شخص نے اس "انسان" کی طرف ایک کنکر پھینک دیا۔ اس کے بعد "انسان" نے ایک زور دار چھلانگ لگائی۔ وہ شاید اپنے حملہ آور تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مگر وہ چاروں طرف لگے ہوئے مانگ سے ٹکرا گیا۔ اس کے ٹکراتے ہی اس کے چہرے کا مکھوٹا (MASK) گر گیا۔ اب معلوم ہوا کہ وہ حقیقتًا ایک جانور تھا جو انسانی بھیس بدلے ہوئے تماشا دکھا رہا تھا۔ سرکس کے اسٹیج پر یہ واقعہ شاید ایک ہی بار پیش آیا ہو۔ مگر انسانی بستیوں میں ایسے واقعات ہر روز سامنے آ رہے ہیں۔ لوگ بظاہر انسان جیسے چہروں کے ساتھ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بات ان کو غصہ دلانے والی پیش آ جائے تو اچانک وہ اپنا انسانی لبادہ اتار پھینکتے ہیں۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل حیوان تھے۔ البتہ انھوں نے اوپر سے انسانی مکھوٹا پہن رکھا تھا۔ خلاف مزاج بات پیش آتے ہی وہ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے۔ لاشعور (آدمیی کی اصل ہستی) کو سمجھنے کا بہترین نفسیاتی وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ ذہنی اختلال میں مبتلا ہو۔ اسی طرح شکایت اور اختلاف کا وقت آدمی کے دین و اخلاق کا امتحان ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدم ٹھیک اسی وقت ناکام ہو جاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہئے۔ دعا یا کرتب ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت کا فارم بھرے تو اس کا نام درخواست ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جائے اور یہ یقین کرے کہ اسی حال میں سات دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی، تو یہ کرتب ہے، درخواست دینا ایک بالکل معقول بات ہے۔ مگر کرتب اتنی ہی بے معنی چیز ہے۔ اسی طرح خدا سے مانگنے میں بھی ایک دعا کا طریقہ ہے اور دوسرا کرتب کا طریقہ۔ دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے حاجات و مسائل میں خدا کی طرف رجوع کرے، اس سے روئے گڑگڑائے، اس سے حاجت روائی کی درخواست کرے ۔ یہ عین مطلوب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی خدا سے مانگو۔

مگر کچھ لوگوں نے اسی کے ساتھ کرتب کے کچھ طریقے نکال رکھے ہیں ـــــ فلاں لفظ اتنی بار دہرادو تو بلاٹل جائے گی، فلاں وقت میں فلاں عمل کرلو تو حاجات پوری ہو جائیں گی۔ فلاں نقش کا غذ پر لکھ کر اتنے دن تک باندھے رہو تو دشمن ختم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کرتب ہیں ۔ دعا (اللہ کو پکارنا) جتنا با معنی ہے، کرتب (عملیات) کے طریقے اتنے ہی بے معنی ہیں ۔ پہلا عین اسلامی ہے اور دوسرا قطعاً غیر اسلامی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page