قبل اس کے خدا کا سیلاب پھٹ پڑے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۷
خيالات ڈر اس سے جو وقت آنے والا ریٹا ہے وہ اس کے کلام میں زیادہ زور دار ہے اور شاید اسی لیے ان کی یہ نغماتی کیفیات ہیں۔ مسافر کی ٹرین اسٹیشن پر سامنے کھڑی ہو اور وہ اس میں سوار ہونے کے بجائے پلیٹ فارم کی بنچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے کش مکش کرے ، تو ہر آدمی اس کو بیوقوف کہے گا۔ مگر ایک اور سفر کے معاملہ میں ساری دنیا اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہے اور کسی کو اس نادانی کا احساس نہیں۔ حتیٰ کہ جو شخص " ٹرین" کو چھوڑ کر پلیٹ فارم کی بنچ پر اپنے لئے ایک کشادہ جگہ حاصل کرلیتا ہے، اس کو لوگ خوش قسمت کہتے ہیں اور عقل مند کا لقب دیتے ہیں۔
یہ دوسرا سفر موت کا سفر ہے۔ ہر روز لاکھوں آدمی مرکر ہم کو یہ سبق دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے، اس کی تیاری کرو۔ مگر انسان دنیا کی دلچسپیوں اور جھمیلوں میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اس کو آخرت کی دنیا کے لئے تیاری کا ہوش ہی نہیں۔ قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی شخص کے لئے اس دروازہ کو کھلتے ہوئے اور پھر اس کے اوپر اس کو بند ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ خود ان کے لئے بھی یہ دروازہ ایک روز کھولا جائے گا، اور پھر اسی طرح بند ہوگا جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے ۔ آدمی کی یہ نفسیات بھی کتنی عجیب ہے کہ دوسروں کو وہ ہر روز مرتے ہوئے دیکھتا ہے. مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ ایک ایک کر کے روزانہ خدا کے یہاں پیشی کے لئے بلائے جارہے ہیں۔ مگر خود اپنے کو اس طرح الگ کر لیتا ہے گویا عدالت الہی میں حاضری کا یہ دن اس کے اپنے لئے کبھی نہیں آئے گا ۔ CS CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues