لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸
خدا پرست طلی کیا ھے کا دُعاۓ صَلیب تِیاغے جاڑے کے موسم میں سانپ ٹھٹھرا پڑ رہتا ہے لیکن ذرا سا بھی دُم چھوئیے تو وہ فوراً پھن نکال کر کھڑا ہوجائے گا۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ ایک شخص بظاہر نہایت شریف اور معقول نظر آئے گا۔ لیکن اگر اس کی انا کو ضرب لگائیے، اس سے کسی معاملے میں اختلاف کر دیجئے تو اچانک وہ ایسا نامعقول بن جاتا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے اب تک آپ واقف تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر خدا بننے کی ایک تمنا چھپائے ہوئے ہے۔ جب آپ اس سے عقیدت مندی کے ساتھ ملتے ہیں، جب اس سے اس کی پسندیدہ باتیں کرتے ہیں تو اس کی خاموش تمنا کو تسکین ملتی رہتی ہے۔ اس کا لاشعور آپ کو قدردانی کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ کیونکہ اس کے نزدیک گویا آپ اس کے خدائی کے دعوے کو تسلیم کر رہے ہیں۔ مگر جب آپ ناقد کی حیثیت سے اس کے سامنے آئیں تو اس کا ردّعمل بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اب وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ اس کے دعوے کو چیلنج کر رہے ہیں، وہ غصہ سے بھر کے آغاز میں بسم اللہ کو لیکن اگر اُن کی انّا پر ضرب لگائیے تو ایسا معلوم ہوگا گویا اُنھوں نے برعکس نہند نام زنگی کافور کے اصول پر اپنے لیے یہ القاب تجویز کئے تھے۔ اپنے خلاف تنقید کو سن کر جو پس ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں اس سے ہرگز یہ معلوم نہیں ہوتا کہ فی الواقع وہ اپنے کو حقیر یا خاکسار یا کچھ نہ جاننے والا سمجھتے ہیں۔ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ یہ کبر ہے اور خدا کے یہاں کبر کی معافی نہیں ۔
لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ
مثقال حبۃ خردل من کبر، قیل وما الکبر قال : بطر الحق وغمط الناس۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہو، پوچھا گیا کبر کیا ہے۔ فرمایا: حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے آزمائش کی خاطر اُکھٹتا ہے اور رچاہتا ہے کہ آپ کو مٹا ڈالے جس طرح نمرود اور فرعون نے اپنے خدائی کے دعوے کا انکار کرنے والوں کو مٹا دینا چاہا تھا۔
بہت سے لوگ ہیں جو اپنی کسی تحریر میں اپنے نام کے ساتھ "خاکسار"، "عجمدان" ، "احقر العباد" جیسے الفاظ کو لکھنا اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا تحریر پیدا کیا ہے۔ اس لئے اس کے اندر نفس بھی رکھ دیا ہے جو اس کو بُرائیوں پر اکساتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ تمیز کی قوت بھی انسان کے اندر موجود ہے جو اس کو حق و ناحق بتاتی رہتی ہے۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ کبھی کوئی ناموافق بات سن کر آدمی پر جھنجھلاہٹ اور غصہ طاری ہو جائے اور اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues