Al-Risala · October 1978 · page 4

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴

وہ لوگ جو دین کی خاطر دنیا میں بے حیثیت ہو گئے ہوں عن حارثة بن وهاب قال قال رسول الله صلی حارثہ بن وہاب کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ علیہ وسلم الا أخبركم بملوك اهل کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اہل جنت کے بادشاہ کون لوگ ہیں الجنة قالوا بلى يا رسول الله ۔ قال كل لوگوں نے کہا ہاں اے خدا کے رسول۔ فرمایا: وہ جو کمزور ضعيف مستضعف اغبر اشعث ہو اور جس کو کمزور سمجھ لیا گیا ہو۔ گرد آلود اور بکھرے (متفق علیہ) ہوئے بال ۔

وہ لوگ جو مصلحت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا دین بناتے ہیں۔ جو دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے حق کو اہمیت دیتے ہیں۔ جو بندوں کے بجائے خدا کو اپنی تو جہات کا مرکز بناتے ہیں ، ایسے لوگ اکثر اوقات دنیا میں بے جگہ ہو جاتے ہیں۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں دے پاتے جن کی دنیوی اہمیت ہو اور جو دنیا میں آدمی کو باعزت بنانے والی ہوں۔ ان کی اس حالت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ان کو بے حیثیت اور ناکام سمجھ لیتے ہیں۔ دنیوی نقشوں میں ان کو کہیں عزت کے مقام پر نہیں بٹھایا جاتا۔ مگر جب موجودہ دنیا کو توڑ کر آخرت کا عالم بنایا جائے گا تو اس کے اندر یہی لوگ سب سے زیادہ اونچا مقام حاصل کریں گے۔ وہی سب سے زیادہ کامیاب انسان قرار پائیں گے۔ آج کی دنیا کے بے زور کل کی دنیا میں بادشاہوں کی طرح زندگی گزاریں گے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ڈکٹیٹرانہ نظام میں ایک جمہوری لیڈر ذلت اور گم نامی کے قید خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر جب جمہوری حالات پیدا ہوتے ہیں اور عوامی رائے سے سیاسی مناصب کا فیصلہ ہوتا ہے تو وہی شخص اقتدار کی بلند ترین کرسی پر بیٹھا ہوا نظر آتا ہے جو کل تک ایک معمولی سپاہی کے آگے بھی بے زور دکھائی دے رہا تھا۔

☐ ناکافی تیاری کے ساتھ کیا ہوا اقدام مسئلہ کو پہلے سے زیادہ سنگین بنا دیتا ہے شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان خور نہیں ہوتا۔ کسی شیر کو انسان خور بنانے والے اکثر وہ غیر ماہر شکاری ہوتے ہیں جو شیر پر گولی چلاتے ہیں مگر ان کی گولی صحیح نشانہ پر پڑنے کے بجائے الچتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ اس قسم کا شیر انسان دشمن ہو جاتا ہے۔ وہ جہاں کہیں انسانی شکل کو دیکھتا ہے، اس پر حملہ کرکے اسے کھا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر آپ اپنے حریف پر ایسے اقدامات کریں جو ناکافی تیاری کی وجہ سے فیصلہ کن نہ بن سکیں تو اس قسم کا ہر اقدام آپ کے حریف کو پہلے سے زیادہ مشتعل کرکے آپ کے مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page