لائق اور صالح آدمی ہر چیز سے زیادہ قیمتی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۵
لائق اور صالح آدمی ہر چیز سے زیادہ قیمتی
بخاری نے تاریخ صغیر میں یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ زید بن اسلم اپنے باپ کے واسطے سے بتاتے ہیں کہ عمر بن خطاب اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے کہا: تم لوگ اپنی تمنائیں بیان کرو۔ کسی نے کہا: میری تمنا ہے کہ یہ گھر میرے لئے درہم سے بھرا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ کسی نے کہا: میرے پاس، اس گھر کے برابر سونا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے راستے میں دیتا۔ کسی نے کہا: میری تمنا ہے کہ یہ گھر میرے لئے موتیوں سے بھرا ہوتا اور میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا وغیرہ۔ عمر اللہ عنہ نے فرمایا :
لکنی اتمنى ان يكون ملاهذا البيت رجالا مثل لیکن میری تمنا تو یہ ہے کہ اس گھر بھر میرے پاس ابو عبیدہ ابی عبیدۃ بن الجراح و معاذ بن جبل وحذیفة بن الجراح ، معاذ بن جبیل اور حذیفہ بن یمان جیسے آدمی ہوتے بن یمان فاستعملهم في طاعة الله اور ان کو میں اللہ کے کاموں میں استعمال کرتا۔
امیر کے اوصاف
ابن سعد نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی اتنی خدمت کی کہ ان کے گھر والوں میں سے بھی کسی نے اتنی خدمت نہیں کی ۔ وہ مجھ کو اپنے پاس بٹھاتے اور میری عزت کرتے تھے۔ ایک روز میں ان کے گھر میں تنہائی میں ان کے ساتھ تھا۔ اچانک انھوں نے اتنے زور کی آہ بھری کہ مجھے گمان ہوا کہ اسی کے ساتھ ان کی جان نکل جائے گی۔ میں نے پوچھا : کیا آپ نے کسی ڈر کی وجہ سے آہ بھری ہے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ میں نے کہا وہ ڈر کیا ہے۔ فرمایا میرے قرب آجاؤ۔ میں قریب ہوگیا۔ پھر فرمایا: اس کام (خلافت) کے لئے میں کسی کو نہیں پاتا۔ میں نے چھ آدمیوں کا نام لے کر کہا: کیا آپ فلاں اور فلاں سے غافل ہیں۔ میں ایک ایک کا نام لیتا جاتا تھا اور وہ ہر ایک کے بارہ میں کچھ نہ کچھ کہتے جاتے تھے۔ آخر میں فرمایا:
انہ لا يصلح لهذا الامر الا شدید فی غیر اس کام کا اہل صرف وہی شخص ہے جو شدید ہو بغیر اکڑ کے، عنف، لين في غير ضعف، جواد من غير سرت نرم ہو بغیر کمزوری کے، سخی ہو بغیر فضول خرچی کے ، ممسك في غير دخل (كنز العمال جلد ۳) مال روکنے والا ہو بغیر بخل کے۔
عبداللہ بن عباس رضی نے کہا: یہ صفات عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور میں جمع نہیں ہوئیں۔ امیر کے ہم نشینوں کو کیسا ہونا چاہئے طبرانی نے عبداللہ بن عباس رضی سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے! میں دیکھتا ہوں کہ امیر المومنین (عمر رضی اللہ عنہ) تم کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں، تم کو اپنے قریب بٹھاتے ہیں اور تم سے دیگر اصحاب رسول کے ساتھ مشورہ لیتے ہیں۔ تم مجھ سے تین نصیحتیں یاد کر لو :
اتق الله لا يجدبن عليك كذبة، ولا تفشين له سرا، اللہ سے ڈرو، امیر المؤمنین تمھارے بارے میں کبھی جھوٹ کا تجربہ نہ کریں۔ ان کے بھید کو کبھی ظاہر نہ کرنا،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues