اللہ سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز مغفرت ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۹
یہ سن کر کوڑا میرے ہاتھ سے گرگیا۔ میں نے کہا " اب کبھی میں کسی غلام کو نہ ماروں گا، میں اس غلام کو اللہ کی خوشی سے لئے آزاد کرتا ہوں " ، آپ نے فرمایا :
أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ تَفْعَلَ لَمَسَّتْكَ النَّار (مسلم) اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ کی لپٹ تم کو چھو دیتی۔ خدا کی پکڑ سے ڈرنا خواہ کم زور کا معاملہ کیوں نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ ام سلمہ کے مکان پر تھے۔ آپ کو کسی کام کے لئے خادم کی ضرورت پیش آئی۔ آپ نے اس کو آواز دے کر بلایا۔ خادم نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔ ام سلمہ یہ دیکھ کر اٹھیں۔ پردہ کے پاس جا کر دیکھا تو خادم باہر بکری کے بچوں کے کھیل رہی تھی ۔ ام سلمہ نے دوبارہ اس کو آواز دے کر بلایا۔ وہ آئی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک مسواك تھی، آپ نے خادممہ سے کہا : لَوْلَا خَشْيَةُ الْقِصَاصِ وَجَعَلْتُ بِهَذَا السِّوَاكِ قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو (الادب المفرد)
اس مسواک سے مارتا۔
اللہ سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز مغفرت ہے
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ انصار کے پاس سنجائی کے اونٹوں کی تنگی ہوئی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ ان کے اونٹوں کا انتظام کر دیں یا خوب بہنے والی نہر کھدوا دیں۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: انصار کے لئے مرحبا، انصار کے لئے مرحبا، انصار کے لئے مرحبا۔ آج تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کرو گے میں تمھیں ضرور دوں گا اور تمہارے لئے اللہ سے جو چیز بھی مانگوں گا وہ ضرور عطا فرمائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کلمات سن کر انصار کا دل پھر گیا۔ انھوں نے سوچا کہ مانگنے کی زیادہ بڑی چیز تو آخرت ہے پھر ایسے قیمتی موقع پر آپ سے دنیا کیوں مانگیں۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس موقع کو غنیمت جانو اور آپ سے مغفرت کا سوال کرو اغتنموها وسلوه المغفرة انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں ۔ آپ نے فوراً کہا: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، ان کے لڑکوں کی مغفرت فرما، ان کی عورتوں کی مغفرت فرما (احمد)
غصہ نہ کر ، غصہ نہ کر ، غصہ نہ کر
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہا: مجھ کو نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : لا تغضب (غصہ مت کر) اس نے دوبارہ کہا: مجھ کو نصیحت کیجئے۔ آپ نے پھر فرمایا : لا تغضب (غصہ مت کر) وہ بار بار اپنا سوال دہراتا رہا اور آپ بار بار یہی کہتے رہے: غصہ مت کر (بخاری) دنیا سے بھرے ہوئے، ، آخرت سے خالی قال أبو الدرداء : ماني اراكم شبا عا من الطعام جياعا حضرت ابو الدرداء نے کہا : یہ کیا ہے کہ میں تم کو کھانے سے من العلم (جامع بيان العلم۔ جزء ثانی ، صفحہ ۳۰۷) شکم سیر دیکھتا ہوں اور علم دین سے تم بھوکے پڑے ہوئے ہو
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues