اصل اعتبار اندر کے انسان کا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
وہ خدا کو دیکھ کر ہنسیں گے ، خدا ان کو دیکھ کر ہنسے گا طبراءنی نے حصین بن وحوح اور طلحہ بن مسکےن سے روایت کیا ہے۔ طلحہ بن برا رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت ہونے کے لئے آئے۔ اس وقت وہ نوجوان تھے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ ! جو کچھ آپ کو محبوب ہو مجھے حکم دیجئے ، میں کسی امر میں نافرمانی نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا : " اگرچہ میں تم کو حکم دوں کہ تم اپنے والدین سے قطع تعلق کر لو! " راوی کہتے ہیں کہ ان کی ایک ماں تھی اور وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ سلوک کرتے تھے۔ طلحہ بن براءؓ آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے تیار ہو گئے تو آپ نے فرمایا: " اے طلحہ ! ہمارے دین میں قطع رحم نہیں۔ مگر میں نے چاہا کہ تمہارے دین میں کوئی شک نہ رہ جائے ۔ "
طلحہ بن براءؓ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت اچھا رہا۔ وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے آئے۔ آپ نے ان کو اس حال میں پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری تھی۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : جہاں تک میرا خیال ہے، طلحہ اپنی اسی رات میں اٹھا لئے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ یہ کہہ کر واپس آگئے کہ جب یہ ہوش میں آئیں تو مجھ کو بلالینا۔ ان کو آدھی رات کو ہوش آیا۔ مگر انھوں نے اطلاع کرانے کو منع کر دیا ۔ انھوں نے کہا: ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں کوئی موذی جانور آپ کو کاٹ لے یا یہودی دشمنوں سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچے۔ رات ہی کو حضرت طلحہ کا انتقال ہو گیا۔ صبح کی نماز کے بعد آپ کو ان کی وفات کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : اللہم القه يضحك اليك وانت تضحك اليه خدايا ! تو اس سے اس طرح ملاقات کر کہ وہ تجھ کو دیکھ کر ہنسے اور تو اس کو دیکھ کر ہنسے ۔
اصل اعتبار اندر کے انسان کا
ابن عساکر نے زہری سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن حذافہ رض کے بارے میں شکایت کی گئی کہ وہ مزاح اور مسخوری کی باتیں کرتے ہیں (انہ صاحب مزاح و باطل آپ نے فرمایا: اتر كوه فان له بطانة يحب الله ورسوله ان کو چھوڑ دو۔ ان کا جو باطن ہے وہ اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ہے۔
مسئلہ کھڑا کئے بغیر ساتھ دینا
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غزوہ روم کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام کو جمع کر کے تقریر فرمائی ۔ آپ نے کہا : میری رائے ہے کہ مسلمان ملک شام کی طرف رومیوں سے جہاد کے لئے نکلیں۔ اللہ ضرور مسلمانوں کی مدد فرمائے گا اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا۔ آپ کی تقریر کے بعد مشورہ ہوا۔ بعض مخالف رائیں بھی آئیں ۔ تاہم کچھ دیر کی گفت گو کے بعد سب نے بالاتفاق کہا :
ما رأيت من رأى فامضنه فانا لا نخالفك آپ کی جو رائے ہو اس کو کر گزرئیے ۔ ہم نہ آپ کی مخالفت ولا نتهتك (ابن عساکر) کریں گے اور نہ آپ پر الزام رکھیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues