مذہب روس میں واپس آرہا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳
آدمی کسی بات کو ماننا نہ چاہے تو اس کو رد کرنے کے لئے وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ الفاظ پالینا ہے کی طلب کو بھی انسان کی فطرت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ایک عام مذہبی آدمی کے لئے یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ مگر انسان کے پاس لفظوں کی کمی نہیں۔ جو لوگ خدا کا اقرار کرنا نہیں چاہتے ۔ انھوں نے اس توجیہ کو رد کرنے کے لئے نہایت خوبصورت الفاظ تلاش کر لئے۔ انھوں نے کہا :
The revival of interest in reli- gion in the Soviet Union is a form of legalized dissidence. یعنی سوویت روس میں مذہب کے رجحان کا دوبارہ ابھرنا مذہبی آزادی کا اقرار یا تصدیق نہ کرنے کی دائرہ تعلق نہیں رکھتا ہے ۔ اس کے نزدیک اشتراکی انقلاب کے ساٹھ سال بعد روسی معاشرہ میں مذہب کے دوبارہ زندہ ہونے کی دوسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔
مذہب پچاتی کی سمت میں ہیں، یہ دستگاہِ عوام کے لئے صرف حکومت سے اختلاف کی ایک جائز صورت ہے ۔ ۔ ایک واقعہ جس میں اقرارِ خدا کا سامان تھا، اس سے انکارِ خدا کی دلیل نکال لی گئی۔ روزہ: آخرت میں نقصان دینے والی چیزوں سے بچنے کا سبق آل انڈیا ریڈیو نے ۱۹ اگست ۱۹۷۵ء کی شام کو ساڑھے نو بجے ایک پروگرام رکھا تھا۔ عنوان تھا "روزہ کیا ہے"،۔ یہ آدھ گھنٹہ کی ایک ریڈیائی بات چیت تھی جس میں تین مذاہب کے نمائندے شریک تھے ۔ اسلام کی نمائندگی راقم الحروف نے کی۔ دوسرے دو صاحبان یہ تھے : پنڈت بچیدا نند شاستری اور آرک بشپ ناصر۔ ۔ ہر ایک نے اپنے مذہب کی روشنی میں روزہ کی حقیقت بیان کی ۔
میں نے جو باتیں کہیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ دنیا میں آدمی کو کچھ چیزوں سے بچ کر زندگی گزارنی ہے تاکہ اس کی آخرت کامیاب ہو۔ دنیا میں ایک تاجر اپنے کو فضول خرچی سے تا ہے، ایک طالب علم اپنے کو ضیاع وقت سے بچاتا ہے، ایک مزدور اپنے کو کاہلی سے بچاتا ہے ۔ اس طرح بچ بچاؤ کی زندگی گزارنے ہی کا نام دنیا کی کامیابی ہے ، کاہلی ، فضول خرچی ، عیاشی ، ضیاع وقت سے آدمی اپنے کو نہ بچائے تو وہ کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔
ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت کا ہے ۔ آدمی کو اپنی آخرت کو کامیاب بنانے کے لئے ایک متقیانہ زندگی گزارنی ہے ۔ کچھ چیزوں سے اپنے کو بچا کر رکھنا ہے ۔ آخرت کو برباد کرنے والی چیزوں سے بچ بچا کر اور ان کو چھوڑ کر زندگی گزارنے کا سبق دینے کے لئے روزہ فرض کیا گیا ہے ۔ جو شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے ، اس کو شام کے وقت کھانے کی لذت ملتی ہے ۔ اسی طرح جو شخص دنیا میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے گا وہی آخرت میں زندگی کی لذتوں کو پائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues