Al-Risala · October 1978 · page 15

قاسم جان اسٹریٹ ۔ دہلی ۱۱۰۰۰۶

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

فرد کو ایمانی غذا پہنچانا دینی تحریک کا اصل مقصد ایک دینی دار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بزرگ لکھتے ہیں: "تجدید دین پر آپ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ ایک جرات مند اور حقیقت سے لبریز قدم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کی ٹھوس تعلیمات کو وزن دار پتھروں کے بوجھ کے نیچے دبا دیا گیا ہے۔ اس کو دوبارہ آشکار کرنے کے لئے آپ نے "پہلا قدم"، تجویز کیا ہے، وہ اگر چہ درست ہے۔ مگر یہ بڑا صبر آزما قدم ہے۔ اس راہ سے اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے صدی سے کم مدت درکار نہ ہوگی۔ بہر حال آپ نے "تجدید دین" میں صحیح نشان دہی فرما کر اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کی کوشش کو قبول فرمائے۔ " (کشمیر ۱۳ جون 1978) تجدید دین کو موجودہ زمانہ میں تجدید سیاست کے ہم معنیٰ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس لئے جب بھی تجدید کی بات کی جائے فوراً سیاسی غلبہ کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ حالاں کہ لفظی طور پر تجدید دین کا مطلب صرف دین کو نیا کرنا ہے۔ اس سے مراد دین کو فکری طور پر نکھارنا ہے، نہ کہ اس کو سیاسی طور پر غالب کر دینا۔ اسی غلط فہمی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام جو در اصل خدا کی خاموش دنیا میں بندہ کے داخلہ کا دروازہ تھا، سیاسی شور وغل کا پنڈال بن کر رہ گیا۔

جس طرح دنیا میں طرح طرح کی مادی غذائیں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں حصہ دار بننے والا دنیوی حیثیت سے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی نے اپنی کائنات میں ایک اور دستر خوان کھولا ہے۔ یہ اخروی غذاؤں کا دستر خوان ہے جو نفسیاتی سطح پر آدمی کو ملتا ہے۔ قرآن میں اس کو خشوع و تضرع اور احبات دانا بت وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے نزدیک آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ آدمی اس دوسرے دستر خوان سے اپنی غذا حاصل کرنے لگے۔ انسانی تعمیرات کے پردہ میں ڈھکا ہوا دین آدمی کے لئے اس خدائی دستر خوان سے غذا لینے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ دین انابت کو دین سیاست بنا کر رکھ دیتا ہے۔ اس سے نہ شدت ہوتی ہے کہ اس قسم کے تمام پر دوں کو ہٹا دیا جائے تاکہ اللہ کا جو بندہ اللہ سے قریب ہونا چاہے وہ اس کی قربت سے محروم نہ رہے۔

اعتراف

غالباً ۱۹۳۰ء کا واقعہ ہے۔ جارج اسلامیہ ہائی اسکول گورکھ پور (جو بعد کو اسلامیہ کالج بنا) کے ایک استاد مسٹر شرف الدین تھے۔ بہت ذہین اور لائق استاد تھے۔ انگریز انسپکٹر ایک روز ان کی کلاس کا معائنہ کرنے کے لئے آیا۔ اس وقت وہ غالباً نویں کلاس کو انگریزی زبان پڑھارہے تھے۔ انگریز انسپکٹر ان کی کلاس میں بیٹھ گیا اور ان کے درس کو سنتا رہا۔ بعد کو اس نے انسپکشن رپورٹ میں لکھا :

I did not inspect the class of Mr. Sharfuddin, actually I attended it. He is so learned a teacher. میں نے مسٹر شرف الدین کی کلاس کا معائنہ نہیں کیا۔ بلکہ حقیقتاً ان کے کلاس میں شرکت کی۔ وہ واقعی ایک لائق استاد ہیں۔

ڈاکٹر محمود قادری (پیدائش ۱۹۱۴ء)

قاسم جان اسٹریٹ ۔ دہلی ۱۱۰۰۰۶

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page